"> اسد طور کی فیک نیوز بے نقاب؛ علیمہ خان اور محسن نقوی کی ملاقات کا جھوٹ مسترد
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

صحافت کے نام پر افواہ سازی؛ اسد طور کا مبینہ بیک چینل ڈیل کا دعویٰ پراپیگنڈا قرار

سوشل میڈیا ویوز اور سنسنی خیزی کے لیے ذرائع کے نام پر کہانیاں گھڑنے والے اسد طور کا مبینہ بیک چینل ڈیل کا دعویٰ خود علیمہ خان کی دوٹوک تردید کے بعد سراسر جھوٹ ثابت ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا ویوز اور سنسنی خیزی کے لیے ذرائع کے نام پر کہانیاں گھڑنے والے اسد طور کا مبینہ 'بیک چینل ڈیل' کا دعویٰ خود علیمہ خان کی دوٹوک تردید کے بعد سراسر جھوٹ ثابت ہو گیا ہے۔

اسد طور کی جانب سے پی ٹی آئی قیادت، علیمہ خان اور محسن نقوی کی مبینہ ملاقات اور عید کے دن عمران خان تک رسائی کے جھوٹے دعووں کا تفصیلی اور حقائق پر مبنی پوسٹ مارٹم۔ جھوٹ پکڑے جانے پر پینترا بدلنے کی صحافتی بددیانتی بے نقاب۔

May 26, 2026

سوشل میڈیا پر سنسنی خیزی اور ویوز کی دوڑ میں اخلاقی حدود پار کرنے والے اسد طور ایک بار پھر خبر کے نام پر قیاس آرائی، جھوٹ اور سیاسی چورن بیچتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی جانب سے چلائی جانے والی حالیہ کہانی صرف اور صرف سوشل میڈیا ٹریکشن، یوٹیوب تھمب نیلز اور سیاسی سنسنی پیدا کرنے کے لیے گھڑی گئی تھی، جس کا زمینی حقائق اور سنجیدہ صحافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

موصوف نے بغیر کسی دستاویزی یا عینی ثبوت کے یہ مبالغہ آمیز دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان ملاقاتیں ہو رہی ہیں جن کا ایجنڈا عمران خان تک رسائی، اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل، عید کے دن ملاقات، اور محمود خان اچکزئی کی بجٹ سے متعلق دھمکی جیسے سیاسی رابطے ہیں، جو کہ سراسر جھوٹ اور پراپیگنڈے کے سوا کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا۔

جھوٹ پر جھوٹ

اسد طور نے اپنی اس فیک نیوز کی مشینری کو چلانے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ جوڑا۔ انہوں نے پہلے تو ملاقات کا ایک فرضی ایجنڈا بدلا، پھر سنسنی بڑھانے کے لیے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کی موجودگی کا دعویٰ گھڑ لیا۔ اس کے بعد وفاقی وزیر محسن نقوی کو اپنی مرضی کے سیاسی فریم میں فٹ کیا اور آخر میں عید کے دن عمران خان سے ملاقات کی ایک ایسی من گھڑت کہانی بنائی جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صحافت نہیں بلکہ جھوٹ، پراپیگنڈا اور بے پر کی اڑانا ہے، جہاں خبر نہ ملے تو یوٹیوب کی دکان چمکانے کے لیے سیاسی افواہ سازی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جب کوئی ثبوت نہیں ہوتا تو اسد طور جیسے لوگ “ذرائع” کے نام کا سہارا لے کر من پسند کردار شامل کرتے ہیں، انہیں سازشی رنگ دیتے ہیں اور پھر اسے بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرتے ہیں۔

علیمہ خان کی تردید اور اسد طور

اس جھوٹ کا بھانڈا اس وقت بیچ چوراہے پھوٹ گیا جب خود علیمہ خان نے سامنے آ کر ایسی کسی بھی ملاقات یا خاندان کی شمولیت سے دوٹوک الفاظ میں لاعلمی ظاہر کر دی اور اس فرضی کہانی کو مسترد کر دیا۔ جیسے ہی یہ جھوٹ پکڑا گیا، اسد طور نے اپنی سبکی مٹانے کے لیے فوراً پینترا بدلا اور ایک وضاحتی ٹویٹ کے ذریعے اسے “فیملی میٹنگ” کے بجائے پی ٹی آئی قیادت کی محسن نقوی سے ملاقات بنا کر نیا فریم دینے کی کوشش کی۔

یعنی پہلے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان، سہیل آفریدی اور بیرسٹر گوہر نے ملاقات کی، اور جب دال نہ گلی تو خاموشی سے یہ تاثر دینے لگے کہ اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے بے تاب ہے۔ اس طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ جب خبر غلط نکلے تو اسے اخلاقی طور پر واپس لینے کے بجائے نیا پروپیگنڈا بنا دیا جائے تاکہ سنسنی برقرار رہے، کیونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔

اندرونی انتشار

حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندرونی انتشار، بجٹ کے موقع پر کی جانے والی کمزور سیاست اور مسلسل ناکام سیاسی دباؤ کو چھپانے کے لیے اب ایسی جھوٹی “بیک چینل” کہانیاں مارکیٹ میں پھینکی جا رہی ہیں۔ ریاستی معاملات کبھی بھی قیاس آرائیوں، یوٹیوب تھمب نیلز اور فیک نیوز کے دباؤ پر نہیں چلتے۔ جو لوگ ہر ملاقات کو سازش، ہر سیاسی رابطے کو ڈیل، اور ہر قانونی عمل کو اسٹیبلشمنٹ کا کھیل بنا کر پیش کرتے ہیں، وہ دراصل عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

اسد طور نے اس بار کوئی خبر نہیں دی بلکہ فیک نیوز کا ایک پورا پیکج بیچا ہے، جس کا مقصد معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ صرف اور صرف ڈیجیٹل ٹریکشن اور ریٹنگز کا حصول تھا۔ غیور عوام اب جان چکے ہیں کہ یہ اس پرانی فیک نیوز فیکٹری کا ایک نیا پروڈکٹ ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *