عالمی سطح پر پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت اور علاقائی بحرانوں میں اس کے تعمیری و مفاہمت آمیز کردار کو ملنے والی بین الاقوامی پذیرائی نے بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور سوشل میڈیا حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سفارتی اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بوکھلاہٹ کے نتیجے میں بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پاکستان کے حوالے سے مسلسل منفی ردعمل اور متبادل بیانیے بنانے کا ایک منظم رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
اس مہم کی خاص بات یہ ہے کہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے مصنوعی مواد اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی جعلی ویڈیوز کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس رجحان کا بنیادی مقصد کسی سنجیدہ سفارتی یا تحقیقی بحث کو فروغ دینا نہیں بلکہ صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ آن لائن انگیجمنٹ، ویوز اور سنسنی خیزی حاصل کرنا ہے۔
آرمی چیف کے خلاف مہم
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے پاکستان کےسپہ سالار، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حوالے سے شدید متضاد، گمراہ کن اور قیاسی دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ان من گھڑت دعووں میں پاکستان کے مبینہ سفارتی کردار کو مختلف عالمی بیانیوں سے زبردستی جوڑنے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا ابراہم معاہدوں اور علاقائی سفارت کاری جیسے انتہائی حساس اور پیچیدہ معاملات کو غیر مصدقہ انداز میں گڈ مڈ کر کے پیش کر رہا ہے، اور ساتھ ہی پاسپورٹ یا سفری پابندیوں سے متعلق عمومی اور غیر تصدیق شدہ افواہیں پھیلا رہا ہے۔ اسٹریٹجک ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا بیانیہ محض ایک ڈیجیٹل شور اور سیاسی پروپیگنڈا کا حصہ ہے، جس کا مقصد پیچیدہ سفارتی معاملات کو سادہ اور جذباتی رنگ دے کر اپنے عوام کو مطمئن کرنا ہے۔
اصولی خارجہ پالیسی
ریاستی مقتدرہ اور سفارتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اپنے اعلیٰ قومی مفادات، علاقائی استحکام، خودمختاری اور اصولی مؤقف پر مبنی رہی ہے، اور اس نوعیت کے تمام بڑے اور تزویراتی فیصلے ریاستی سطح پر واضح اور باضابطہ آئینی پالیسی کے تحت ہوتے ہیں۔ لہٰذا، پاکستان کی ریاستی پالیسیوں کو کسی بھی طور پر سوشل میڈیا کی قیاس آرائیوں، فیک نیوز یا غیر مصدقہ رپورٹس کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مختلف علاقائی بحرانوں اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی موجودگی، تعمیری مذاکراتی کردار اور عملی اقدامات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بھارتی ڈیجیٹل پروپیگنڈا سیل اس بیانیے کو مشکوک بنانے اور الزامات کے ذریعے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔
ذمہ دارانہ سفارت کاری کا تقاضا
سفارتی ماہرین کے مطابق کسی بھی خودمختار ملک کی پالیسی یا بین الاقوامی ساکھ کا اندازہ سوشل میڈیا کے سطحی مواد، پروپیگنڈا ٹویٹس یا غیر مصدقہ ڈیجیٹل ویڈیوز سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ریاستی سطح کے باضابطہ اقدامات اور بین الاقوامی سفارتی رویہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ خطے کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ پورا عمل اسٹریٹجک حقیقت سے زیادہ ایک یکطرفہ اطلاعاتی مقابلہ بازی اور آن لائن بیانیہ سازی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بھارتی حلقے صرف اپنی طرف توجہ مبذول کرانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور ذمہ دار ڈیجیٹل مکالمے کے لیے ضروری ہے کہ جذباتی، من گھڑت اور سوشل میڈیا بیانیوں کے بجائے سنسنی خیزی سے پاک، تصدیق شدہ معلومات، سفارتی حقائق اور عملی پیش رفت کو بنیاد بنایا جائے اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو ترجیح دی جائے۔