امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی اور دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایران نے دباؤ کے آگے جھک کر پسپائی اختیار کی ہے، نہ کہ امریکہ نے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جنگ بندی کے باوجود لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور اس حوالے سے تمام متعلقہ فریقین کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔ یہ وفد ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچے گا جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا باضابطہ دور منعقد ہوگا۔ ان مذاکرات کو خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ طویل المدتی امن معاہدے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اس جنگ میں اسرائیل کے کردار سے متعلق سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ رات اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت کی، جس میں نیتن یاہو نے جنگ بندی کی حمایت کا اعادہ کیا اور امریکہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکی حکام کے مطابق اسرائیل گزشتہ ہفتوں میں ایک اہم اتحادی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم، حقائق اس سے کہیں برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
اسرائیل نے لبنان پر بمباری کر کے سب سے پہلے جنگ بندی پر پانی پھیرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ اسرائیل اس جنگ کو ختم کرنے کیلئے بالکل آمادہ نظر نہیں آتا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔ پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا بلکہ دونوں ممالک کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کے لیے بھی مدعو کیا، جسے عالمی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران-امریکہ کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر استحکام کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔ تاہم لبنان جیسے حساس محاذوں پر صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جو اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔