"> جنگ بندی کے بعد سفارت کاری کا عمل تیز؛ جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکہ کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد میں مذاکرات کرے گا؛ ذرائع - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جنگ بندی کے بعد سفارت کاری کا عمل تیز؛ جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکہ کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد میں مذاکرات کرے گا؛ ذرائع

ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
جنگ بندی کے بعد سفارت کاری کا عمل تیز؛ جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکہ کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد میں مذاکرات کرے گا؛ ذرائع

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران-امریکہ کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر استحکام کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔

April 8, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی اور دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایران نے دباؤ کے آگے جھک کر پسپائی اختیار کی ہے، نہ کہ امریکہ نے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جنگ بندی کے باوجود لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور اس حوالے سے تمام متعلقہ فریقین کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔ یہ وفد ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچے گا جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا باضابطہ دور منعقد ہوگا۔ ان مذاکرات کو خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ طویل المدتی امن معاہدے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اس جنگ میں اسرائیل کے کردار سے متعلق سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ رات اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت کی، جس میں نیتن یاہو نے جنگ بندی کی حمایت کا اعادہ کیا اور امریکہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکی حکام کے مطابق اسرائیل گزشتہ ہفتوں میں ایک اہم اتحادی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم، حقائق اس سے کہیں برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

اسرائیل نے لبنان پر بمباری کر کے سب سے پہلے جنگ بندی پر پانی پھیرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ اسرائیل اس جنگ کو ختم کرنے کیلئے بالکل آمادہ نظر نہیں آتا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔ پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا بلکہ دونوں ممالک کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کے لیے بھی مدعو کیا، جسے عالمی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران-امریکہ کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر استحکام کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔ تاہم لبنان جیسے حساس محاذوں پر صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جو اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *