"> بی ایل اے کمانڈر شہناز بلوچ سے اہلخانہ کا مکمل لاتعلقی کا اعلان
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بی ایل اے کمانڈر شہناز بلوچ سے اہلِ خانہ کا مکمل لاتعلقی کا اعلان

بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان سے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے.
کمانڈر شہناز بلوچ

کالعدم بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی تمام سرگرمیوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔

May 30, 2026

تربت: بلوچستان میں سرگرم، بھارت کی ممنوعہ پراکسی تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کو اب اپنے ہی گھروں سے شدید مزاحمت اور بائیکاٹ کا سامنا ہے. ایک حالیہ اور اہم پیش رفت میں بی ایل اے کے مفرور کمانڈر بشیر زیب گروپ سے تعلق رکھنے والی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے قریبی خاندان اور رشتہ داروں نے ان سے اپنے تمام روابط ختم کرتے ہوئے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.

پریس کانفرنس

فتنہ الہندوستان کی ایجنٹ اور عسکریت پسند خاتون شہناز بلوچ کی والدہ رخصانہ، دادا اور ماموں نے تربت پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس معاملے کے تمام حقائق سامنے رکھے۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عسکریت پسند کی والدہ رخصانہ کا کہنا تھا کہ شہناز بلوچ کے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب وہ محض 9 ماہ کی تھی. انہوں نے بتایا کہ شہناز بلوچ انتہائی کم عمری میں ہی پاکستان سے عمان منتقل ہو گئی تھی اور گزشتہ تقریباً 12 برسوں سے خاندان کا اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ یا خاندانی تعلق قائم نہیں ہے.

قانون کا احترام

خاتون کمانڈر کے اہلخانہ نے واضح کیا کہ وہ طویل عرصے سے پاکستان سے باہر مقیم تھی اور خاندان کو اس کی کسی بھی قسم کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں، دہشت گردانہ نیٹ ورکس یا کسی بھی ممنوعہ و کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کے بارے میں کبھی کوئی علم یا اندیشہ نہیں تھا۔

شہناز بلوچ کے ماموں اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے پریس کانفرنس کے دوران دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمارے خاندان کا شہناز بلوچ کے کسی بھی بیان، عسکری اقدام، ویڈیو یا ملک دشمن سرگرمیوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اور ہمارا پورا خاندان پرامن پاکستانی ہیں، جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے قانون، آئین اور ریاستی اداروں کا تہہ دل سے احترام کیا ہے اور مستقبل میں بھی اس پر کاربند رہیں گے.

دہشت گردی سے بیزاری کا اظہار

سیاسی اور سلامتی کے ماہرین کے مطابق، فتنہ الہندوستان کی آلہ کار اور دہشت گرد کمانڈر شہناز بلوچ کے سگے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے پریس کلب میں آ کر اس نوعیت کی لاتعلقی کا اعلان کرنا ایک انتہائی اہم تزویراتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ اقدام اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ اب عام بلوچ قوم بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والی ان کالعدم تنظیموں اور دہشت گردی کی لعنت سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ہے اور وہ اپنے بچوں کو ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے سے بچانے کے لیے خود سامنے آ رہے ہیں.

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *