تربت: بلوچستان میں سرگرم، بھارت کی ممنوعہ پراکسی تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کو اب اپنے ہی گھروں سے شدید مزاحمت اور بائیکاٹ کا سامنا ہے. ایک حالیہ اور اہم پیش رفت میں بی ایل اے کے مفرور کمانڈر بشیر زیب گروپ سے تعلق رکھنے والی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے قریبی خاندان اور رشتہ داروں نے ان سے اپنے تمام روابط ختم کرتے ہوئے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.
پریس کانفرنس
فتنہ الہندوستان کی ایجنٹ اور عسکریت پسند خاتون شہناز بلوچ کی والدہ رخصانہ، دادا اور ماموں نے تربت پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس معاملے کے تمام حقائق سامنے رکھے۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عسکریت پسند کی والدہ رخصانہ کا کہنا تھا کہ شہناز بلوچ کے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب وہ محض 9 ماہ کی تھی. انہوں نے بتایا کہ شہناز بلوچ انتہائی کم عمری میں ہی پاکستان سے عمان منتقل ہو گئی تھی اور گزشتہ تقریباً 12 برسوں سے خاندان کا اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ یا خاندانی تعلق قائم نہیں ہے.
بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ سے اہلخانہ کا مکمل لاتعلقی کا اعلان
— PTV News (@PTVNewsOfficial) May 30, 2026
بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی اورکالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں سے انکے اہلخانہ بھی لاتعلقی اختیار کرنے لگے ہیں
تربت سے تعلق رکھنے والی بی ایل اے ،بشیر زیب گروپ کی کمانڈر شہناز بلوچ سے اسکے اہلخانہ… pic.twitter.com/xgKskV4uo3
قانون کا احترام
خاتون کمانڈر کے اہلخانہ نے واضح کیا کہ وہ طویل عرصے سے پاکستان سے باہر مقیم تھی اور خاندان کو اس کی کسی بھی قسم کی انتہا پسندانہ سرگرمیوں، دہشت گردانہ نیٹ ورکس یا کسی بھی ممنوعہ و کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کے بارے میں کبھی کوئی علم یا اندیشہ نہیں تھا۔
شہناز بلوچ کے ماموں اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے پریس کانفرنس کے دوران دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمارے خاندان کا شہناز بلوچ کے کسی بھی بیان، عسکری اقدام، ویڈیو یا ملک دشمن سرگرمیوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اور ہمارا پورا خاندان پرامن پاکستانی ہیں، جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے قانون، آئین اور ریاستی اداروں کا تہہ دل سے احترام کیا ہے اور مستقبل میں بھی اس پر کاربند رہیں گے.
دہشت گردی سے بیزاری کا اظہار
سیاسی اور سلامتی کے ماہرین کے مطابق، فتنہ الہندوستان کی آلہ کار اور دہشت گرد کمانڈر شہناز بلوچ کے سگے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے پریس کلب میں آ کر اس نوعیت کی لاتعلقی کا اعلان کرنا ایک انتہائی اہم تزویراتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ اقدام اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ اب عام بلوچ قوم بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والی ان کالعدم تنظیموں اور دہشت گردی کی لعنت سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ہے اور وہ اپنے بچوں کو ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے سے بچانے کے لیے خود سامنے آ رہے ہیں.