کابل: سابق افغان سیاست دان روہب اللہ جان نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام کے پاس اب طالبان کی جابرانہ حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کا ایک “سنہری موقع” موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ موقع خصوصاً ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ نے افغانستان کے لیے امداد معطل کر دی ہے، اور اس کے ساتھ ہی افغانستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سنگین انسانی و معاشی بحران کا براہِ راست ذمہ دار طالبان کی سخت گیر اور غیر لچکدار پالیسیوں کو قرار دیا ہے۔
معاشی تباہی اور عوام
روہب اللہ جان کے مطابق، لاکھوں افغان شہری پہلے ہی شدید غربت، بے لگام مہنگائی، بھوک اور طالبان کے بدترین جبر کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ طالبان انتظامیہ ملک میں معاشی استحکام اور ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کے بجائے محض اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے اور مخالفین کو دبانے میں مصروف ہے۔
Former Afghan Politician Rohibullah Jan Says Afghan People Should Rise Against Taliban After US Blames Taliban For Deepening Humanitarian Crisis
— Afghan Times (@AfghanTimes7) May 29, 2026
Former Afghan politician Rohibullah Jan says the people of Afghanistan now have a “golden opportunity” to stand against the Taliban’s… pic.twitter.com/O2cjyDCxyv
انہوں نے ماضی قریب کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ملک میں ایسے دل دہلا دینے والے واقعات بھی سامنے آئے تھے جن میں بعض مجبور افغان خاندان معاشی تباہی، فاقہ کشی اور بھوک کے باعث اپنی جمع پونجی، املاک اور یہاں تک کہ اپنے معصوم بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہونے کے بارے میں غور کر رہے تھے۔
جامع حکومت کا مطالبہ
سابق افغان سیاست دان نے افغان عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پُرامن انداز میں آواز اٹھائیں اور ملک میں ایک ایسی بہتر، مستحکم، ذمہ دار اور جامع حکومت کا مطالبہ کریں جو افغانستان کے روشن مستقبل کے لیے کام کرے، نہ کہ ایک ایسے نظام کو طول دے جو صرف خوف، جبر اور بین الاقوامی تنہائی پر مبنی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان عوام اب مزید اس جبر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
عوام کے حقوق پر تشویش
اپنے بیان کے اختتام پر روہب اللہ جان کا کہنا تھا کہ افغانستان امن، وقار، معاشی استحکام اور ایک ایسی حکومت کا حق دار ہے جو عوام کی حقیقی خدمت کرے اور ان کی فلاح و بہبود کو اولویت دے، نہ کہ ایک ایسی حکومت کا جو انہیں مسلسل دبائے، ان پر سختیاں کرے اور ان کے بنیادی انسانی و سماجی حقوق سلب کرے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ افغان عوام کو اس کسمپرسی سے نکالنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔