وفاقی دارالحکومت میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات کے لیے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ مقامی ذرائع اور انتظامیہ کے مطابق یہ مذاکرات اپنے مقررہ وقت اور مقام پر ہی منعقد ہوں گے اور تمام مدعو کیے گئے عالمی مہمانوں نے اپنی شرکت کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے مقام پر سکیورٹی کے تمام متعین پیرامیٹرز نافذ کر دیے گئے ہیں اور سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں۔ انتظامیہ نے ریڈ زون سمیت تمام حساس علاقوں کی نگرانی سخت کر دی ہے تاکہ سفارتی سرگرمیوں کو پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا سکے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق سرحدوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور میزائل حملوں کی تشویشناک رپورٹس کے باوجود فریقین مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مقامی ایف ایم ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ زمینی حالات میں کشیدگی کے باوجود سفارتی سطح پر ایک بڑی پیش رفت کے قوی امکانات موجود ہیں اور ماہرین اس نشست کو خطے میں دیرپا امن کے لیے سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے پلان جاری کر رکھا ہے اور انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ سکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رہے۔ پاکستان ان مذاکرات میں ایک کلیدی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے، جس کا مقصد عالمی قوتوں کے درمیان تنازعات کا پرامن حل نکالنا ہے۔