غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کے کردار پر عالمی رائے عامہ بدل گئی، بھارتی صارفین بھی معترف

بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل میں بھارت کی عدم موجودگی پر اپنی حکومت پر تنقید بھی کی اور سفارتی سطح پر کردار ادا نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔
پاکستانی ثالثی کی عالمی تعریف

جنگ بندی سے قبل صورتحال اس کے برعکس تھی، جب تقریباً 91 فیصد صارفین پاکستان کے ثالثی کردار پر تنقید کر رہے تھے، تاہم حالیہ کامیابی کے بعد یہ رجحان یکسر تبدیل ہو گیا۔

April 10, 2026

اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے مؤثر سفارتی کردار کے بعد عالمی رائے عامہ میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں دنیا بھر میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے، حتیٰ کہ بھارتی صارفین بھی تعریف کرنے والوں میں شامل ہیں۔

ڈیجیٹل تجزیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر تقریباً 71 فیصد صارفین نے ثالثی میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور اسے مثبت پیش رفت قرار دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ تعریف پاکستان کے اندر سے سامنے آئی، تاہم امریکا اور بھارت کے صارفین کی جانب سے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل میں بھارت کی عدم موجودگی پر اپنی حکومت پر تنقید بھی کی اور سفارتی سطح پر کردار ادا نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی سے قبل صورتحال اس کے برعکس تھی، جب تقریباً 91 فیصد صارفین پاکستان کے ثالثی کردار پر تنقید کر رہے تھے، تاہم حالیہ کامیابی کے بعد یہ رجحان یکسر تبدیل ہو گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی فعال سفارتکاری نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ عالمی سطح پر اس کے مثبت امیج کو بھی تقویت دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد پاکستان کا کردار ایک بااعتماد ثالث کے طور پر مزید مستحکم ہوا ہے، جس کے اثرات آئندہ سفارتی معاملات میں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

دیکھئیے:سعودی وزیر خزانہ کا دورہ پاکستان؛ گوادر میں 10 ارب ڈالر آئل ریفائنری کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی

متعلقہ مضامین

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *