واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔

April 12, 2026

پاکستان نے بطور ثالث دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فریقین جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھیں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔

April 12, 2026

دونوں طیارے بیک وقت پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، تاہم لینڈنگ کے وقت کور فلائٹ مختلف راستہ اختیار کرتی ہوئی شمالی علاقوں کی جانب چلی گئی۔

April 12, 2026

مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث فریقین کسی جامع اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد نکات پر بات چیت کے باوجود پیش رفت محدود رہی۔

April 12, 2026

دوسری جانب مذاکراتی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر فریقین کے درمیان نمایاں پیشرفت بھی ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 15 مطالبات میں سے ایران نے 11 کو قبول کیا، جبکہ ایران کے 10 مطالبات میں سے امریکہ نے 8 سے اتفاق کیا۔ یوں “اسلام آباد اکارڈ” کو جزوی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ باقی ماندہ نکات پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔

April 12, 2026

ذرائع کے مطابق بالمشافہ مذاکرات کے ایک دور کے اختتام کے بعد ایرانی اور امریکی ماہرین پر مشتمل ٹیمیں اب زیر بحث امور پر تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہی ہیں، تاہم ان تفصیلات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

April 11, 2026

اسلام آباد مذاکرات: 16 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود امریکہ اور ایران میں معاہدہ نہ ہو سکا؛ جے ڈی وینس واپس روانہ

دوسری جانب مذاکراتی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر فریقین کے درمیان نمایاں پیشرفت بھی ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 15 مطالبات میں سے ایران نے 11 کو قبول کیا، جبکہ ایران کے 10 مطالبات میں سے امریکہ نے 8 سے اتفاق کیا۔ یوں “اسلام آباد اکارڈ” کو جزوی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ باقی ماندہ نکات پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔
اسلام آباد مذاکرات: 16 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود امریکہ اور ایران میں معاہدہ نہ ہو سکا؛ جے ڈی وینس واپس روانہ

جے ڈی وینس نے اس موقع پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ پریس کانفرنس کے بعد وہ واپس روانہ ہو گئے۔

April 12, 2026

پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات کے پہلے مرحلے میں حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا، تاہم دونوں فریقین کے درمیان قابلِ ذکر پیشرفت سامنے آئی ہے اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 16 گھنٹے طویل مذاکرات، متعدد ادوار اور تحریری مسودوں کے تبادلے کے باوجود دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر کی ہدایت تھی کہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کریں اور ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی، لیکن افسوس کہ کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اپنی “ریڈ لائنز” واضح کر دی تھیں، تاہم ایران نے ان شرائط کو قبول نہیں کیا۔ جے ڈی وینس نے اس موقع پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ پریس کانفرنس کے بعد وہ واپس روانہ ہو گئے۔

دوسری جانب مذاکراتی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر فریقین کے درمیان نمایاں پیشرفت بھی ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 15 مطالبات میں سے ایران نے 11 کو قبول کیا، جبکہ ایران کے 10 مطالبات میں سے امریکہ نے 8 سے اتفاق کیا۔ یوں “اسلام آباد اکارڈ” کو جزوی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ باقی ماندہ نکات پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔

ایرانی مؤقف
ایران کی جانب سے ترجمان اسماعیل باقعی نے کہا کہ ایران کے لیے سفارتکاری “مقدس جدوجہد” کا تسلسل ہے اور وہ اپنی قومی خودمختاری اور مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکہ پر ماضی میں وعدہ خلافیوں اور “غیر قانونی اقدامات” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان تجربات کو فراموش نہیں کر سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جن میں آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگی نقصانات، پابندیوں کا خاتمہ اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے جیسے نکات شامل تھے۔ ان کے مطابق ایران تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مذاکرات جاری رکھے گا۔

پاکستان کا کردار
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا۔ اسلام آباد نہ صرف ان مذاکرات کا میزبان رہا بلکہ بیک چینل رابطوں اور ثالثی کے ذریعے عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ایرانی ترجمان نے بھی پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی “مخلصانہ کوششیں” اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم رہی ہیں۔

آگے کا لائحہ عمل
اگرچہ فوری معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جزوی اتفاق رائے اور جاری سفارتی عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک مکمل تعطل کے بجائے مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہیں۔ توقع ہے کہ باقی متنازع نکات پر آئندہ ادوار میں بات چیت ہوگی، جس سے کسی جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد مذاکرات نے ایک بار پھر پاکستان کو عالمی سفارتکاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں سے خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

متعلقہ مضامین

واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔

April 12, 2026

پاکستان نے بطور ثالث دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ فریقین جنگ بندی کے عزم کو برقرار رکھیں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔

April 12, 2026

دونوں طیارے بیک وقت پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، تاہم لینڈنگ کے وقت کور فلائٹ مختلف راستہ اختیار کرتی ہوئی شمالی علاقوں کی جانب چلی گئی۔

April 12, 2026

مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث فریقین کسی جامع اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد نکات پر بات چیت کے باوجود پیش رفت محدود رہی۔

April 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *