اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات کے سلسلے میں امریکی نائب صدر کے دورے کے دوران سکیورٹی انتظامات کے تحت ایک خصوصی “کور فلائٹ” بھی آپریٹ کی گئی، جو ان کے طیارے کے ساتھ میری لینڈ سے پاکستان تک پرواز کرتی رہی۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق یہ اقدام اعلیٰ سطحی سکیورٹی پروٹوکول کا حصہ ہوتا ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق “ایس اے ایم زیرہ نائن ون” کال سائن رکھنے والی اس پرواز کو دنیا بھر میں 9500 سے زائد صارفین نے ٹریک کیا۔ یہ طیارہ امریکی ریاست میری لینڈ سے روانہ ہو کر پیرس پہنچا، جہاں اس نے نائب صدر کے طیارے کے قریب وقت میں لینڈنگ کی۔
ذرائع کے مطابق کور فلائٹ نے پیرس سے اسلام آباد کیلئے اڑان بھی نائب صدر کے طیارے کے فوری بعد بھری، تاہم رفتار کم ہونے کے باعث یہ مرکزی پرواز سے پیچھے رہی۔ دونوں طیارے بیک وقت پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، تاہم لینڈنگ کے وقت کور فلائٹ مختلف راستہ اختیار کرتی ہوئی شمالی علاقوں کی جانب چلی گئی۔
ایوی ایشن ڈیٹا کے مطابق یہ طیارہ اسکردو کے قریب سے گزرتے ہوئے لداخ کے راستے بھارتی فضائی حدود میں داخل ہوا، جہاں سے لہہ کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے چین کی حدود میں پہنچا اور بعد ازاں اس کا ٹرانسپونڈر بند کر دیا گیا۔ اس حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی “کور فلائٹس” عام طور پر حساس اور اعلیٰ سطحی عسکری یا سفارتی مشنز میں استعمال ہوتی ہیں، جن کا مقصد سکیورٹی، نگرانی اور ہنگامی ردعمل کی صلاحیت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔