امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات بظاہر مثبت رہے اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہوا، تاہم سب سے اہم مسئلہ یعنی جوہری پروگرام حل نہ ہو سکا، جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں فوری ناکہ بندی شروع کرے گا۔
اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ دنیا کی بہترین فورس ہے اور اسے ہدایت دی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں داخل اور خارج ہونے والے جہازوں کی نگرانی اور روک تھام کی جائے، خاص طور پر وہ جہاز جو ایران کو کسی قسم کا ٹول ادا کریں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے بارودی سرنگوں کی موجودگی کے دعوے “عالمی بھتہ خوری” کے مترادف ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کو تباہ کرے گا اور کسی بھی حملے یا فائرنگ کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کو اس صورتحال کے خاتمے کا راستہ معلوم ہے، تاہم وہ اپنے جوہری مؤقف پر لچک دکھانے کو تیار نہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی جوہری پالیسی کے باعث پہلے ہی شدید نقصان اٹھا چکا ہے، جبکہ امریکی فوج مکمل طور پر “تیار” ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر ممالک بھی ممکنہ ناکہ بندی میں امریکہ کا ساتھ دے سکتے ہیں، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی میزبانی اور کردار کو سراہا، اور کہا کہ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے جاری رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس عالمی گزرگاہ کے حوالے سے، جہاں کسی بھی عسکری اقدام کے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔