اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے نیویارک میں او آئی سی کے سفیروں کے اہم اجلاس میں شرکت کی، جہاں لبنان کی سنگین انسانی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لبنان میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہاں صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے جنوبی علاقوں اور گنجان آباد مقامات پر اسرائیلی بمباری کو شہریوں کے لیے شدید خطرہ قرار دیا۔
خودمختاری کی حمایت
عثمان جدون نے واضح کیا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شہری انفراسٹرکچر کی تباہی کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ انہوں نے لبنان کی حکومت کی جانب سے امن و استحکام کی بحالی اور ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کے اقدامات، بشمول 2 مارچ کے کابینہ فیصلے کو بھی سراہا۔
At OIC Meeting, Pakistan Condemns Israeli Strikes in Lebanon, Urges De-Escalation and Humanitarian Access
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) April 14, 2026
United Nations, April 13, 2026: Ambassador Usman Jadoon, Deputy Permanent Representative of Pakistan to the UN, attended the OIC Ambassadorial meeting held at the UN… pic.twitter.com/A2fWpOff7l
امن دستوں پر حملے اور سفارتی حل
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر اسرائیلی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی، جن میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ متاثرہ علاقوں تک بلا رکاوٹ انسانی رسائی اور ہنگامی فنڈنگ کو یقینی بنایا جائے۔ عثمان جدون کا کہنا تھا کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور نئی سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں، کیونکہ پائیدار امن صرف سیاسی مکالمے اور عالمی قوانین کے احترام سے ہی ممکن ہے۔