"> قومی مفاد بمقابلہ ریٹنگز: میڈیا کی ذہنی مرعوبیت اور ریاستی بیانیے سے انحراف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

قومی مفاد بمقابلہ ریٹنگز: میڈیا کی ذہنی مرعوبیت اور ریاستی بیانیے سے انحراف

جب عالمی برادری پاکستان کی سفارتی فتوحات کا اعتراف کر رہی ہے، تب جیو نیوز اور اس سے وابستہ بعض عناصر دشمن ملک کی پذیرائی اور قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی مہم میں مصروف ہیں
جب عالمی برادری پاکستان کی سفارتی فتوحات کا اعتراف کر رہی ہے، تب جیو نیوز اور اس سے وابستہ بعض عناصر دشمن ملک کی پذیرائی اور قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی مہم میں مصروف ہیں

رپورٹ کے مطابق 12 اپریل 2026 کو جیو نیوز نے بھارتی گلوکارہ کے انتقال کی خبر کو نہ صرف غیر معمولی کوریج دی بلکہ اس دوران بھارتی گانے اور فلمی مناظر بھی دکھائے گئے۔ یہ عمل سپریم کورٹ آف پاکستان کے 27 اکتوبر 2018 کے اس تاریخی فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے

April 14, 2026

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے فیصلہ کن مرحلےپر کھڑا ہے جہاں ریاست اپنی بقا اور عالمی سطح پر اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ تاہم اس حساس صورتحال میں پاکستان کے بعض بااثر میڈیا گروپس کی ترجیحات قومی بیانیے سے انحراف کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ امر نہایت کربناک ہے کہ ایک جانب پاکستان عالمی سطح پر ایک کلیدی سفارتی قوت بن کر ابھر رہا ہے اور دنیا بھر کے ایوانوں میں ہماری امن پسندی اور تزویراتی کردار کا اعتراف کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب ایک بڑا میڈیا ہاؤس محض چند ڈالروں اور عارضی ریٹنگز کی خاطر دشمن ملک کے پراپیگنڈے کی آبیاری میں مصروف ہے۔ آشا بھوسلے جیسی شخصیات کی کوریج اپنی جگہ، لیکن کیا اس ثقافت کو اپنے سر آنکھوں پر بٹھانا اخلاقی طور پر درست ہے جس نے ہمیشہ ہمارے فنکاروں کی تذلیل کی اور ہمیں عالمی برادری میں تنہا کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی؟

پیمرا کا ایکشن

پیمرا کی جانب سے جاری کردہ حالیہ قانونی نوٹس جیو نیوز کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دستاویز کے مطابق 12 اپریل 2026 کو جیو نیوز نے بھارتی گلوکارہ کے انتقال کی خبر کو نہ صرف غیر معمولی کوریج دی بلکہ اس دوران بھارتی گانے اور فلمی مناظر بھی دکھائے گئے۔ یہ عمل سپریم کورٹ آف پاکستان کے 27 اکتوبر 2018 کے اس تاریخی فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے جس کے تحت پاکستان میں بھارتی مواد کی تشہیر پر مکمل پابندی عائد ہے۔

قومی حمیت کی پامالی

قومی غیرت اور حب الوطنی کا کم از کم تقاضا تو یہ تھا کہ ہمارا میڈیا اس ‘فتنہ الہندوستان’ کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتا جو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سرپرستی کر کے معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔ جس غاصب نے حال ہی میں ہماری سالمیت کو للکارا، اسی کی ثقافتی مہم چلانا شہدائے وطن کے مقدس لہو سے صریح بیوفائی ہے۔ یہ تضاد ناقابلِ فہم ہے کہ جب ہمارا مواد اور خبریں وہاں کے لیے منع ہوں اور ہمارے فنکاروں پر وہاں کی زمین تنگ کر دی گئی ہو، تو ‘جیو نیوز’ کی جانب سے ان کے لیے یہ دیدہ و دل فرشِ راہ کرنا قوم کے جذبات سے مذاق اور ذہنی مرعوبیت کا واضح ثبوت ہے۔

سبوتاژ کرنے کی کوشش

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان نے ایک عظیم عالمی بحران کے سدِ باب کے لیے کلیدی کردار ادا کیا اور دنیا اس ‘معرکہِ حق’ میں ہماری کامیابی کی معترف ہے، جیو نیوز کے چند مخصوص عناصر، بشمول اعزاز سید جیسے صحافی، اس عظیم سفارتی فتح کو متنازع اور اس میں عیب دکھلانے کی سعیِ لاحاصل کر رہے ہیں۔ جب بین الاقوامی مبصرین پاکستان کی بصیرت افروز سفارت کاری کی تحسین کر رہے ہوں، تب اپنے ہی میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے اسے مشکوک بنانا غیر ذمہ دارانہ صحافت نہیں بلکہ قومی مفادات کے خلاف ایک منظم تخریبی مہم معلوم ہوتی ہے۔ یہ طرزِ عمل ڈالر کمانے کی ہوس ہے یا شعوری طور پر قومی مفاد سے انحراف؟

ثقافتی یلغار

ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ عصرِ حاضر کی جنگیں جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ اذہان پر لڑی جاتی ہیں۔ دشمن ملک کی ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کو غیر ضروری جگہ دے کر نوجوان نسل کے لاشعوری میں دشمن کا ایک مثبت و نرم تاثر اذہان میں جمایا جا رہا ہے، جو دراصل ایک سوچی سمجھی ‘ہائبرڈ وار’ کا حصہ ہے۔ میڈیا نادانستہ یا دانستہ طور پر اس فکری یلغار کا آلہ کار بن رہا ہے۔ اپنے مقامی خوبیوں اور قابلیت کو جو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے اسے نظر انداز کر کے دشمن کے مواد کو فوقیت دینا معاشی اور تخلیقی استحصال کے مترادف ہے۔

میڈیا کی یہ غیر سنجیدہ روش کشمیریوں کے ساتھ ہمارے لازوال رشتہِ اخوت کی بھی نفی ہے۔ جس وقت غاصب افواج مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم کر رہی ہوں، اس وقت اسی ملک کے گلوکاروں اور فنکاروں کے قصیدے پڑھنا کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے برابر ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست کے مقتدر ادارے میڈیا کی اس فکری بے راہ روی کے خاتمے کے لیے سدباب کریں۔ اشتہارات کی دوڑ اور ڈالرز کی چمک میں قوم کے جذبات اور ملکی مفاد کو سبوتاژ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ میڈیا کو یہ باور کرانا ناگزیر ہے کہ وہ ریاست کا چوتھا ستون ہے، جس کا اولین فریضہ ملک کا دفاع اور قومی بیانیے کی پاسداری ہے، نہ کہ دشمن ایجنڈے کی تشہیر کا وسیللہ اور ذریعہ بننا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *