وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے نئے اضافی ڈپازٹس فراہم کرنے کا عہد کیا ہے، جس کی رقم آئندہ ہفتے موصول ہونے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی موجودہ 5 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹس کو بھی اب سالانہ کے بجائے طویل مدت کے لیے رول اوور کیا جائے گا۔
واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اور (آئی ایم ایف) کے اسپرنگ اجلاس 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ان کی سعودی ہم منصب محمد بن عبداللہ الجدعان سے انتہائی تعمیری ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے یہ مالیاتی پیکج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے مستحکم وسائل کی ضرورت ہے، جس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے بلکہ بیرونی کھاتہ بھی مضبوط ہوگا۔
Saudi Arabia Announces USD 3 Billion Additional Support, Extends USD 5 Billion Deposit: Finance Minister
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) April 15, 2026
Federal Minister for Finance and Revenue, Senator Muhammad Aurangzeb, has informed that the Kingdom of Saudi Arabia has committed USD 3 billion in additional deposits, with… pic.twitter.com/E8dXPg6g9Y
ادائیگیوں کی ترتیب
محمد اورنگزیب نے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا، جو تقریباً 3.3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی کامیاب واپسی کا ذکر کرتے ہوئے اطمینان ظاہر کیا کہ حکومت تمام بیرونی واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس حوالے سے کسی تشویش کی ضرورت نہیں۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
وزیرِ خزانہ نے سعودی قیادت، بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر ابھر رہا ہے۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی معاشی اصلاحات اور حالیہ سفارتی کردار کو سراہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت مالی وسائل کو متنوع بنانے کے لیے ‘پانڈا بانڈ’ کے اجرا اور ‘گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ’ پروگرام پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ معاشی استحکام کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔