امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت اسرائیل اور لبنان دہائیوں پر محیط کشیدگی ختم کر کے براہِ راست مذاکرات کی میز پر آنے پر تیار ہو گئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی حالیہ بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے باقاعدہ مذاکراتی عمل شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس میں امریکی نمائندے بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے نائب ترجمان ٹامی پیگٹ نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک کے سفیروں اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات ’تاریخی‘ تھی۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد فریقین کو براہِ راست مکالمے پر آمادہ کرنا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو قوی امید ہے کہ اس اہم رابطے کے نتیجے میں واشنگٹن کی ثالثی میں ایک جامع اور طویل المدتی امن معاہدے کی راہ ہموار ہو گی، جو خطے میں استحکام کا باعث بنے گا۔
طویل تعطل کا خاتمہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس بات کو اجاگر کیا کہ دونوں ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ قیادت کے درمیان گزشتہ 34 سالوں سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے اس طویل سفارتی تعطل کے خاتمے کو “بہت خوب” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ کل ہونے والے باقاعدہ رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کا آغاز ہو جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس سفارتی پیش رفت کا ایجنڈا سرحدوں کا تعین، سیکیورٹی ضمانتیں اور سرحدی تناؤ میں مستقل کمی لانا ہے۔
عالمی منظر نامے پر اثرات
بین الاقوامی مبصرین اور ماہرینِ خارجہ امور اس پیش رفت کو صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک غیر معمولی فتح قرار دے رہے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں بہتری لائے گا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو خطے میں ایران سمیت دیگر علاقائی قوتوں کے اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک نیا منظر نامہ جنم لے سکتا ہے۔