افغانستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے سنگین موڑ پر کھڑا ہے جہاں مذہب کی آڑ میں ایک ایسی بادشاہت مسلط کر دی گئی ہے جس کی مثال خلافتِ راشدہ کی تاریخ اور اسلامی طرزِ حکمرانی میں کہیں نہیں ملتی۔ اسلام میں حکمرانی کا تصور ‘امرہم شوریٰ بینہم’ (ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں) پر مبنی ہے، مگر موجودہ طالبان نظام میں مشورے اور عوامی بیعت کی جگہ قندھار سے جاری ہونے والے ان شخصی احکامات نے لے لی ہے جو ہر قسم کی جوابدہی سے بالاتر ہیں۔
شرعی حیثیت کا سوال اور غاصبانہ قبضہ
سب سے بنیادی سوال اس نظام کی شرعی حیثیت کا ہے جو محض بندوق کے زور پر قائم کیا گیا ہے۔ پندرہ اگست 2021 کو کابل پر قبضے کے بعد ‘لویہ جرگہ’ کے ذریعے باقاعدہ حکومت سازی کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن تین سال گزرنے کے باوجود نہ تو عوامی رضا مندی لی گئی اور نہ ہی مشاورت کا کوئی ادارتی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔ جید فقہاء اور اسلامی تاریخ کے ماہرین کے مطابق ایسی حکومت جس کی بنیاد عوامی بیعت کے بجائے جبر پر ہو، اسے ‘شرعی امارت’ نہیں بلکہ ‘غاصبانہ قبضہ’ تصور کیا جاتا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ اور امام نوویؒ جیسے اکابرین نے واضح کیا ہے کہ مشورے کے بغیر مسلط کردہ اقتدار اسلامی روح کے منافی ہے۔
نسلی عصبیت اور سیاسی محرومی
اس نظام کا سب سے تاریک پہلو اس کی ‘نسلی اور مسلکی عصبیت’ ہے۔ افغانستان ایک کثیر النسلی ملک ہے جہاں تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان قومیتیں مجموعی آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔ تاہم، قندھار کی طاقتور شوریٰ اور 49 رکنی کابینہ میں 85 فیصد سے زائد عہدوں پر پشتونوں کا قبضہ ہے، جبکہ ہزارہ برادری کو مکمل طور پر سیاسی عمل سے خارج کر دیا گیا ہے۔ یہ واضح پشتون بالادستی نہ صرف سیاسی ناانصافی ہے بلکہ مستقبل میں ایک بڑی خانہ جنگی کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔
مذہبی جبریت اور نظریاتی کنٹرول
‘لا اکراہ فی الدین’ (دین میں کوئی زبردستی نہیں) کے قرآنی اصول کے برعکس، موجودہ نظام میں ریاستی طاقت کے ذریعے مخصوص فقہی تعبیر مسلط کی جا رہی ہے۔ بدخشان میں اسماعیلی مسلمانوں کو جبری طور پر مسلک تبدیل کرنے پر مجبور کرنا اور جامعات میں شیعہ طلبہ کو حنفی مسلک اختیار کرنے کی دھمکیاں دینا اس جابرانہ رویے کی انتہا ہے۔ مذہب کو عقیدے کے بجائے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اسلام کی روح کے خلاف ہے، جہاں دین عدل اور رہنمائی کا ذریعہ ہے، نہ کہ شخصی اطاعت مسلط کرنے کا آلہ۔
اندرونی خلفشار اور سماجی بحران
طالبان نظام کے اندر پایا جانے والا خلفشار اب عباس ستانکزئی جیسے معتدل رہنماؤں کی جلاوطنی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندی نے جہاں افغان معاشرے کو جدید دنیا سے کاٹ کر ایک بند معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے، وہاں آدھی آبادی کو گھروں میں محبوس کرنا اسلامی تعلیمات کی کھلی نفی ہے۔ علم، ترقی اور فلاح کے بجائے جمود اور پسماندگی کو فروغ دینا کسی بھی صورت اسلامی فلاحی ریاست کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔
حرفِ آخر
عالمی برادری اور خود مسلم امہ کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ افغانستان میں موجود ‘قبرستان جیسا سکوت’ دراصل امن نہیں بلکہ وہ لاوا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ یہ نظام عوامی رضامندی کے بجائے خوف اور جبر کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ شریعت عدل، مساوات اور انسانی حقوق کے تحفظ کا نام ہے؛ اگر اسے شخصی اقتدار کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے گا، تو یہ نہ صرف افغانستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک غلط مثال ثابت ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ کابل اور قندھار کی قیادت جبر کی پالیسی ترک کر کے ایک ایسی نمائندہ حکومت کی طرف قدم بڑھائے جو شریعت کی حقیقی روح کے مطابق عدل اور مشاورت پر مبنی ہو۔