افغانستان میں طالبان کے تین سالہ اقتدار کے بعد عالمی ماہرینِ قانون، جید مذہبی حلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے موجودہ نظامِ حکمرانی کو ‘شرعی ریاست’ کے بجائے ایک غاصبانہ شخصی بادشاہت قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، 15 اگست 2021 کو کابل پر قبضے کے وقت طالبان قیادت نے افغان روایات کے مطابق ‘لویہ جرگہ’ کے انعقاد اور عوامی بیعت کے ذریعے ایک جامع حکومت سازی کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، تین سال گزرنے کے باوجود نہ تو کوئی جرگہ منعقد ہوا اور نہ ہی عوام کی مرضی شامل کی گئی۔ اس کے برعکس، تمام اختیارات یکطرفہ طور پر قندھار میں مقیم ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے گرد مرتکز کر دیے گئے ہیں، جنہیں ‘امیر المومنین’ قرار دے کر ہر قسم کی جوابدہی سے بالاتر کر دیا گیا ہے۔
نسلی عصبیت اور کابینہ کی ساخت
اعداد و شمار کے مطابق، افغانستان کی موجودہ 49 رکنی کابینہ میں 85 فیصد سے زائد کلیدی اور فیصلہ کن عہدے صرف ایک مخصوص نسل (پشتون) کے پاس ہیں، جبکہ تاجک، ازبک اور ترکمان جیسی بڑی قومیتوں کو صرف علامتی یا ثانوی کردار دیا گیا ہے۔ سب سے تشویشناک صورتحال ہزارہ برادری کی ہے، جنہیں سیاسی ڈھانچے سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قندھار کی 25 رکنی طاقتور شوریٰ میں اقلیتوں کی عدم موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ایک قومی نمائندہ حکومت نہیں بلکہ ایک مخصوص علاقائی اور نسلی گروہ کی اجارہ داری ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے 2 لاکھ سے زائد اہلکاروں پر مشتمل ڈھانچے میں بھی یہی نسلی عدم توازن نمایاں ہے۔
مذہبی جبریت اور اقلیتوں پر دباؤ
اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹس اور مقامی ذرائع نے بدخشان اور دیگر صوبوں سے سنگین انکشافات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اقلیتی اسماعیلی مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں، مالی مراعات اور سیکیورٹی کی ضمانت کے عوض جبری طور پر سنی (حنفی) مسلک اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں اور جامعات میں شیعہ طلبہ کو حنفی فقہ اختیار نہ کرنے کی صورت میں اخراج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مذہبی پولیس کے ذریعے شہریوں کے نجی عقائد اور طرزِ زندگی میں مداخلت کو ماہرین نے اسلامی تاریخ کے روشن ابواب اور ‘لا اکراہ فی الدین’ کے قرآنی اصول کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اندرونی خلفشار اور جلاوطنی کے حقائق
طالبان کے اندرونی ڈھانچے میں بڑھتے ہوئے اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ سینئر کمانڈر عباس ستانکزئی، جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم، جدید آئین اور مشاورتی نظام کے حق میں آواز اٹھائی، انہیں قیادت کی جانب سے شدید دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ معتبر سفارتی ذرائع کے مطابق، عباس ستانکزئی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر جلاوطنی پر مجبور کیا گیا اور وہ اس وقت متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، جہاں وہ فعال فیصلہ سازی کے عمل سے مکمل طور پر باہر ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ طالبان نظام کے اندر بھی کسی قسم کی معتدل آواز یا اصلاحاتی مطالبے کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی گئی۔
فقہی حیثیت اور عوامی ردِعمل
اسلامی فقہ کے ماہرین نے امام ابن تیمیہؒ، امام نوویؒ اور ابن حجر عسقلانیؒ کے افکار کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ جو اقتدار تلوار کے زور پر حاصل کیا جائے اور جس میں عوام کا مشورہ شامل نہ ہو، وہ اسلامی اصطلاح میں ‘امامت’ نہیں بلکہ ‘غصب’ کہلاتا ہے۔ افغانستان میں اس وقت قائم ‘قبرستان جیسا سکوت’ دراصل عوامی رضامندی کا نہیں بلکہ خوف، جبر اور بیخ کنی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے متنبہ کیا ہے کہ ایک ایسا نظام جو اپنی نصف آبادی (خواتین) کو تعلیم اور روزگار سے محروم رکھے اور اقلیتوں کو دیوار سے لگا دے، وہ طویل مدت تک پائیدار استحکام فراہم نہیں کر سکتا۔