سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے دیرینہ تعلقات شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

July 21, 2026

معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران میں کامیاب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

July 21, 2026

امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

July 21, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف عسکری تحاریک بدخشاں سے آگے بڑھ کر کاپیسا اور دیگر علاقوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر رہی ہیں۔

July 21, 2026

نئی دہلی میں نیت پیپر لیک کے خلاف احتجاج کے دوران طلبہ نے بھارتی وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔

July 21, 2026

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ اور یادگارِ شہداء کا دورہ کیا اور شہدائے پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

July 21, 2026

پاکستان کا قائدانہ کردار، برطانوی پارلیمنٹ میں سفارتی کامیابیوں کا دوٹوک اعتراف

امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔
امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے ایوان میں کھلے الفاظ میں تسلیم کیا کہ پاکستان نے غیر معمولی مہارت کے ساتھ ان مذاکرات کی میزبانی کی اور دنیا کو ایک ممکنہ بحران سے بچایا۔

April 18, 2026

برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کے سفارتی کردار کا واضح اور دوٹوک اعتراف اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور خطے کو ایک ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو نہ صرف سراہا گیا ہے بلکہ اسے عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کی ایک عظیم تزویراتی کامیابی ہے کہ اس نے برسوں کی دشمنی کے بعد دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کامیابی حاصل کی۔

قیادت کی شب و روز محنت کا ثمر

اس تاریخی کامیابی کے پیچھے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شب و روز محنت، دور اندیش حکمت عملی اور پالیسیوں کا تسلسل کارفرما ہے۔ آج دنیا اس حقیقت کی معترف ہے کہ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے مل کر ایک ایسی سفارتی راہ نکالی جس نے عالمی سطح پر ایک بڑی تباہی کو ٹال دیا۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے ایوان میں کھلے الفاظ میں تسلیم کیا کہ پاکستان نے غیر معمولی مہارت کے ساتھ ان مذاکرات کی میزبانی کی اور دنیا کو ایک ممکنہ بحران سے بچایا۔

برطانوی وزیراعظم کا اظہارِ تشکر اور تعاون کا یقین

برطانوی وزیراعظم نے بھی ایوانِ نمائندگان میں پاکستان کے اس مؤثر کردار کی تعریف کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے براہِ راست رابطہ کر کے ان مذاکرات کے مثبت نتائج کے حصول کے لیے برطانیہ کے مکمل تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ برطانوی قیادت کا یہ موقف کہ “پوری دنیا پاکستان کی ان کوششوں کی مقروض ہے”، پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت اور اس کے ‘ذمہ دار ریاست’ ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

عالمی تائید اور قومی فخر

دنیا کے کونے کونے سے موصول ہونے والے تہنیتی پیغامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اب ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی قیادت وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے، وہیں یہ کامیابیاں ان عناصر کے لیے منہ توڑ جواب ہیں جو پاکستان کی سفارتی کوششوں کو کمزور دکھانے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ہیں۔

امن کی جیت اور مستحکم مستقبل

پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ مضبوط قیادت اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے ہی امن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آج پاکستان کی یہ کامیابی صرف ایک ملک کی جیت نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کی جیت ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں اپنی قیادت کی اس عالمی کامیابی پر بجا طور پر فخر ہونا چاہیے، جس نے ثابت کیا کہ پاکستان امن کا علمبردار اور عالمی سلامتی کا ایک مضبوط ستون ہے۔

متعلقہ مضامین

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے دیرینہ تعلقات شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

July 21, 2026

معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سنگین بحران میں کامیاب سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

July 21, 2026

امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 100 امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

July 21, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف عسکری تحاریک بدخشاں سے آگے بڑھ کر کاپیسا اور دیگر علاقوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر رہی ہیں۔

July 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *