ترکیہ کے شہر انطالیہ میں جاری ‘انطالیہ ڈپلومیسی فورم’ کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا تیسرا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں چاروں برادر ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ اجلاس باہمی مشاورت کے تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے جس کا مقصد علاقائی چیلنجز کا مشترکہ حل تلاش کرنا ہے۔
اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور تزویراتی حرکیات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ چاروں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کے علاقائی تنازع کا حل صرف اور صرف بامقصد گفت و شنید کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور اس سلسلے میں چاروں ممالک اپنا فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔
باہمی شراکت داری
وزرائے خارجہ نے چاروں ممالک کے درمیان موجودہ شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں ہم آہنگی کو مزید گہرا کیا جائے گا اور تعاون کے نئے افق تلاش کیے جائیں گے۔ اس اسٹریٹجک شراکت داری کا مقصد نہ صرف ان چاروں ممالک کے مفادات کا تحفظ ہے بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور خطے میں پائیدار استحکام کو یقینی بنانا بھی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
سفارتی حلقے انطالیہ میں ہونے والی اس بیٹھک کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر خطے کی اہم ترین سیاسی اور عسکری طاقتیں تصور کی جاتی ہیں۔ ان ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا اور مشترکہ موقف اپنانا اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں علاقائی مسائل کے حل کے لیے یہ اتحاد ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے گا۔ وزرائے خارجہ نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے مشاورتی اجلاس جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔