پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان انتہائی اہم اور تزویراتی مذاکرات متوقع ہیں۔ اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب سب سے بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
وفود کی آمد اور مذاکراتی عمل
سی این این کی صحافی صوفیہ سیفی کے مطابق، ایرانی حکام نے بھی ان مذاکرات کے شیڈول کی تصدیق کر دی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے مذاکراتی وفود اتوار کو ہی اسلام آباد پہنچ جائیں گے تاکہ پیر کی صبح سے باقاعدہ گفتگو کا آغاز کیا جا سکے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ان مذاکرات کے لیے تمام تر سفارتی اور حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
پاکستان کا کلیدی کردار اور عالمی اہمیت
عالمی مبصرین ان مذاکرات کو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور جنگ کے بادل چھٹ جانے کے لیے ایک ‘فیصلہ کن موڑ’ قرار دے رہے ہیں۔ اس پورے عمل میں پاکستان کا بطور میزبان اور سہولت کار کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اسلام آباد کی جانب سے امریکہ اور ایران جیسے روایتی حریفوں کو ایک میز پر بٹھانا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی متوازن اور کامیاب خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
امن کی نئی امید
ان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا خطے میں فوجی کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی چینلز کو بحال کرنا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطوں کی بحالی سے نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ خطے کے دیگر تنازعات کے حل کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ پوری دنیا کی نظریں اب پیر کے روز اسلام آباد میں ہونے والی اس تاریخی بیٹھک پر لگی ہوئی ہیں۔