جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی رحیمہ بی بی کے حالیہ کیس نے ان تمام خدشات اور انتباہات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جو پاکستان کے سیکیورٹی ادارے گزشتہ کئی عرصہ سے بین الاقوامی اور قومی سطح پر پیش کر رہے تھے۔ رحیمہ بی بی کی گرفتاری اور اس سے جڑے حقائق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب منظم طریقے سے ‘خواتین’ اور ‘خاندان’ کے مقدس رشتے کو دہشت گردی کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
سرحد پار محفوظ ٹھکانے
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، رحیمہ بی بی کو اس کے اپنے شوہر، بابر یوسفزئی نے، جو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کا سرگرم رکن ہے، انتہاپسندی کی راہ پر ڈالا۔ سیکیورٹی اداروں کے مؤقف کو اس وقت سب سے بڑی تقویت ملی جب یہ انکشاف ہوا کہ قانون کا گھیرا تنگ ہونے پر بابر یوسفزئی اپنی اہلیہ کو ایک جان لیوا مشن پر تنہا چھوڑ کر خود سرحد پار افغانستان کے محفوظ ٹھکانوں میں فرار ہو گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ سرحد پار اب بھی دہشت گردوں کو ایسی محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں جہاں وہ پاکستان میں کارروائیاں کرنے کے بعد باآسانی روپوش ہو جاتے ہیں۔
رحیمہ بی بی کا کیس ایک خطرناک حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے—دہشتگرد نیٹ ورکس اب منظم حکمتِ عملی کے تحت خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سماجی دباؤ، ذہنی پراپیگنڈا اور ذاتی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر انہیں انتہاپسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سماجی چیلنج… pic.twitter.com/anZ5mEaq6h
— ali asghar bhatti (@asgharbic) April 18, 2026
خواتین کا استعمال
سکیورٹی اداروں کا یہ مؤقف کہ دہشت گرد اب خواتین کو چیک پوسٹوں پر نرمی اور تلاشی سے بچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، رحیمہ بی بی کیس میں مکمل طور پر سچ ثابت ہوا۔ رحیمہ بی بی کو نفسیاتی دباؤ اور ‘خاندانی نجات’ کے جھوٹے خواب دکھا کر اس حد تک الگ تھلگ کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے مجرمانہ احکامات کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھنے لگی تھی۔ یہ کیس اس خطرناک ‘فیملی سیل’ ماڈل کی عکاسی کرتا ہے جس میں دہشت گرد اب باہر کے بجائے گھروں کے اندر ہی بھرتی کا عمل شروع کر چکے ہیں اور معصوم خواتین کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔
ریاستی ردِعمل
اس واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے اپنے مؤقف کو مزید جارحانہ بناتے ہوئے حفاظتی اقدامات میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ حساس علاقوں اور اہم تنصیبات پر خواتین سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کی اس نئی چال کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پسماندہ علاقوں میں ‘کاؤنٹر پروپیگنڈا’ مہم کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے تاکہ خواتین کو ان نیٹ ورکس کے ہتھکنڈوں، سرحد پار بیٹھے ماسٹر مائنڈز کے عزائم اور ڈیجیٹل بھرتی کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔
حرفِ آخر
رحیمہ بی بی کا کیس صرف ایک گرفتاری نہیں، بلکہ ایک قومی انتباہ ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے بدلتے ہوئے چہروں اور سرحد پار محفوظ ٹھکانوں کی نشاندہی محض خدشہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت تھی۔ آج رحیمہ بی بی کا انجام ان تمام خواتین اور خاندانوں کے لیے سبق ہے جنہیں دہشت گرد گروہ اپنے سیاسی اور جابرانہ مقاصد کے لیے ایندھن بنانا چاہتے ہیں۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ اب اس ‘فیملی سیل’ ماڈل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔