اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد اور سکیورٹی اقدامات کے باعث عائد کردہ ٹریفک پابندیوں نے ملک کے توانائی کے شعبے کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے خام تیل کی فراہمی رکنے اور تیار پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث اپنا مرکزی پیداواری یونٹ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کو اطلاع
اٹک ریفائنری انتظامیہ کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ ایک ہنگامی نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک اور آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت پر اچانک پابندی کے باعث ریفائنری کے آپریشنز برقرار رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق سڑکوں کی بندش کی وجہ سے ریفائنری کو خام تیل کی فراہمی مکمل طور پر رک گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ریفائنری سے پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل نہ ہونے کے باعث اسٹوریج ٹینکس اپنی مکمل گنجائش تک بھر چکے ہیں۔
Attock Refinery forced to shut down as stocks tanks full and crude inflow stops due to halt in movement of heavy vehicles. pic.twitter.com/DI8Jqo76ZZ
— Khurram Husain (@KhurramHusain) April 22, 2026
پیداواری یونٹ کی معطلی
ریفائنری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسٹوریج کی گنجائش ختم ہونے اور خام مال کی عدم دستیابی کے باعث ریفائنری نے 32,400 بیرل روزانہ کی گنجائش رکھنے والے اپنے سب سے بڑے ‘مین کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ’ کو بند کر دیا ہے۔ ریفائنری ذرائع کے مطابق یہ یونٹ اس وقت تک غیر فعال رہے گا جب تک اسلام آباد میں ٹریفک کی پابندیاں ختم نہیں ہو جاتیں اور آئل ٹینکرز کی آمد و رفت کا سلسلہ دوبارہ بحال نہیں ہوتا۔
سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
معاشی ماہرین اور توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد نے متنبہ کیا ہے کہ اٹک ریفائنری کے مرکزی یونٹ کی بندش سے بالائی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات بالخصوص پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ریفائنری انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور سڑکیں کھلتے ہی پیداواری عمل دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں اہم غیر ملکی وفود کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ضلعی انتظامیہ نے مختلف شاہراہوں پر ہیوی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کا براہِ راست اثر صنعتی اور تجارتی نقل و حمل پر پڑ رہا ہے۔