وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا انتہائی اہمیت کا حامل سہ ملکی دورہ مکمل کرنے کے بعد ہفتہ کو وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی دورے میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے۔ انطالیہ ایئرپورٹ پر ترک وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام اور پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے وفد کو الوداع کیا۔
انطالیہ ڈپلومیسی فورم اور عالمی ملاقاتیں
اپنے تین روزہ دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے ترکیہ میں منعقدہ ‘انطالیہ ڈپلومیسی فورم’ میں خصوصی شرکت کی۔ فورم کے موقع پر انہوں نے نہ صرف میزبان ملک ترکیہ کی قیادت سے تبادلہ خیال کیا بلکہ وہاں موجود دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا محور خطے میں امن کا قیام، غزہ کی صورتحال اور عالمی اقتصادی چیلنجز رہے۔ وزیرِ اعظم نے عالمی فورم پر پاکستان کا موقف بھرپور طریقے سے پیش کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔
برادر ممالک سے تزویراتی روابط کی مضبوطی
سعودی عرب اور قطر کے دوروں کے دوران وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کی قیادت سے دوطرفہ تعلقات کی مزید مضبوطی اور معاشی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ ملاقاتوں میں زراعت، توانائی اور دفاعی شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان برادر ممالک کے ساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔
علاقائی امن کے لیے پاکستانی کوششیں
سفارتی مبصرین کے مطابق، وزیرِ اعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں سے گفتگو میں خطے میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وطن واپسی پر وزیرِ اعظم اس دورے کے ثمرات اور طے پانے والے معاہدوں کے حوالے سے کابینہ کو اعتماد میں لیں گے، جس سے آنے والے دنوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔