امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک نئے اور سنگین سفارتی تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ 48 گھنٹوں میں بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ فریقین کے درمیان ‘سب کچھ طے پا چکا ہے’ اور ایک تاریخی معاہدہ بہت قریب ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان دعووں کو علانیہ طور پر ‘جھوٹا’ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے غیر حقیقت پسندانہ بیانات کے نتیجے میں وہ سابقہ تمام رعایتوں سے کسی بھی وقت دستبردار ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور بحری ناکہ بندی کا تنازع
آبنائے ہرمز اس وقت فریقین کے درمیان سب سے بڑا تزویراتی تنازع بن کر ابھری ہے۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے، بصورتِ دیگر اس اہم عالمی گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ اپنے مؤقف پر بضد ہیں کہ جب تک ایک جامع اور حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو جاتے، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ‘پوری قوت’ (Full Force) کے ساتھ برقرار رہے گی۔ آپریشنل دعووں میں اس تضاد نے عالمی منڈیوں اور سیکیورٹی مبصرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں پر ڈیڈ لاک
جوہری افزودگی اور منجمد اثاثوں کی واپسی پر بھی فریقین کے درمیان خلیج برقرار ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام معطل کرنے اور افزودہ یورینیم حوالے کرنے پر راضی ہے، لیکن تہران نے ایسے کسی بھی سمجھوتے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنے سویلین افزودگی کے حق سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح، ایران کی جانب سے 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ بھی امریکی صدر نے دوٹوک طور پر مسترد کر دیا ہے، جس سے ‘کیش فار یورینیم’ پیکیج کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات اور تزویراتی ابہام
اگرچہ لبنان میں جنگ بندی کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم مجموعی مذاکراتی عمل کا مستقبل تاحال غیر یقینی ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں اطراف سے آنے والے متضاد بیانات دراصل داخلی سیاست اور مذاکراتی میز پر برتری حاصل کرنے کی ایک ‘تزویراتی چال’ ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے اگلے دورِ مذاکرات کے لیے امریکہ کی جانب سے دی گئی ‘بدھ کی ڈیڈ لائن’ نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اب تمام تر نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں سفارت کاری کا اگلا اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلہ طے پانا ہے۔