اسلام آباد میں 15 ماہ کے دوران 618 نئے ایچ آئی وی کیسز کی رپورٹنگ نے ملکی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ خبر ہفتہ، 18 اپریل 2026 کو اچانک سامنے آئی اور چند ہی گھنٹوں میں تقریباً تمام بڑے ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر قومی سرخی بن گئی۔ رپورٹس کے مطابق یہ اعداد و شمار ہیلتھ منسٹری کے ذیلی ادارے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام سے منسوب ہیں، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ پریس ریلیز یا سرکاری دستاویز جاری نہیں کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خبر کا وقت ایک نہایت حساس سفارتی مرحلے سے جڑا ہوا ہے۔ اس وقت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات جاری ہیں، جنہیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر اس نوعیت کی خبر کو نمایاں انداز میں پیش کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایچ آئی وی کے کیسز کا سامنے آنا ایک سنجیدہ صحت کا مسئلہ ضرور ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ کوئی اچانک غیر معمولی اضافہ نہیں بلکہ ایک مسلسل رجحان کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلہ اس خبر کی ٹائمنگ اور اس کی فریمنگ ہے، جس نے اسے ایک ہنگامی قومی بحران کے طور پر پیش کر دیا۔
میڈیا کا کردار محض خبر دینا نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، جب ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہو، ضروری ہے کہ میڈیا توازن برقرار رکھے۔ سنسنی خیزی یا ریٹنگز کی دوڑ میں ایسی خبروں کو اس انداز میں پیش کرنا جو بین الاقوامی سطح پر ملک کے تاثر کو متاثر کرے، دانشمندی نہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ صحت کے مسائل پر آگاہی ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ قومی بیانیے، سفارتی ماحول اور بین الاقوامی امیج کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار میڈیا وہی ہوتا ہے جو خبر اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم رکھے۔