لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

ایچ آئی وی اعداد و شمار اور سفارتی پس منظر: ذمہ دارانہ صحافت میں میڈیا کہاں کھڑا ہے؟

میڈیا کا کردار محض خبر دینا نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، جب ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہو، ضروری ہے کہ میڈیا توازن برقرار رکھے۔ سنسنی خیزی یا ریٹنگز کی دوڑ میں ایسی خبروں کو اس انداز میں پیش کرنا جو بین الاقوامی سطح پر ملک کے تاثر کو متاثر کرے، دانشمندی نہیں۔
ایچ آئی وی اعداد و شمار اور سفارتی پس منظر: ذمہ دارانہ صحافت میں میڈیا کہاں کھڑا ہے؟

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ صحت کے مسائل پر آگاہی ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ قومی بیانیے، سفارتی ماحول اور بین الاقوامی امیج کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

April 18, 2026

اسلام آباد میں 15 ماہ کے دوران 618 نئے ایچ آئی وی کیسز کی رپورٹنگ نے ملکی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ خبر ہفتہ، 18 اپریل 2026 کو اچانک سامنے آئی اور چند ہی گھنٹوں میں تقریباً تمام بڑے ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر قومی سرخی بن گئی۔ رپورٹس کے مطابق یہ اعداد و شمار ہیلتھ منسٹری کے ذیلی ادارے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام سے منسوب ہیں، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ پریس ریلیز یا سرکاری دستاویز جاری نہیں کی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خبر کا وقت ایک نہایت حساس سفارتی مرحلے سے جڑا ہوا ہے۔ اس وقت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات جاری ہیں، جنہیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر اس نوعیت کی خبر کو نمایاں انداز میں پیش کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایچ آئی وی کے کیسز کا سامنے آنا ایک سنجیدہ صحت کا مسئلہ ضرور ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ کوئی اچانک غیر معمولی اضافہ نہیں بلکہ ایک مسلسل رجحان کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلہ اس خبر کی ٹائمنگ اور اس کی فریمنگ ہے، جس نے اسے ایک ہنگامی قومی بحران کے طور پر پیش کر دیا۔

میڈیا کا کردار محض خبر دینا نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، جب ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہو، ضروری ہے کہ میڈیا توازن برقرار رکھے۔ سنسنی خیزی یا ریٹنگز کی دوڑ میں ایسی خبروں کو اس انداز میں پیش کرنا جو بین الاقوامی سطح پر ملک کے تاثر کو متاثر کرے، دانشمندی نہیں۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ صحت کے مسائل پر آگاہی ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ قومی بیانیے، سفارتی ماحول اور بین الاقوامی امیج کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار میڈیا وہی ہوتا ہے جو خبر اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم رکھے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *