اعلیٰ حکومتی ذرائع نے ان اطلاعات کی دوٹوک تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کے لیے دن اور تاریخ تاحال فائنل نہیں کی گئی ہے، اس لیے پیر کے روز کسی بھی باضابطہ ملاقات کا امکان نہیں ہے۔
امریکی میڈیا کے دعوے
واضح رہے کہ امریکی میڈیا نے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے یہ رپورٹ دی تھی کہ پاکستان پیر کے روز امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرے گا۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو میں سفارتی محاذ پر ‘اچھی چیزیں’ ہونے کا اشارہ دیا تھا اور لبنان میں جنگ بندی کو بھی اس سلسلے کی کڑی قرار دیا تھا، جس سے مذاکرات کے حوالے سے عالمی سطح پر امیدیں پیدا ہوئی تھیں۔
ایرانی سپریم لیڈر کا مؤقف
سفارتی کوششوں کے برعکس ایران کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بحریہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی بحریہ دشمنوں پر نئے نقصانات پہنچانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ اس بیان کو آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بھارتی جہازوں پر فائرنگ کے حالیہ واقعے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی میز پر بیٹھنے کے باوجود تہران اپنا دفاعی دباؤ برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
سفارتی مبصرین کی رائے
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کی تاریخ پر اتفاق نہ ہونا فریقین کے درمیان گہرے اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ بدھ کی ڈیڈ لائن کے ذریعے دباؤ ڈال رہا ہے، وہیں ایران اپنی شرائط پر سمجھوتہ کرنے سے گریزاں ہے۔ ان حالات میں پاکستان کا کردار ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے، تاہم مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کے لیے ابھی فریقین کو مزید بنیادی نکات پر اتفاق کرنا ہوگا۔ سب کی نظریں اب واشنگٹن اور تہران کے اگلے باضابطہ اعلان پر جمی ہیں۔