شمالی وزیرستان: پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، جس کے نتیجے میں کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک ایک افغان شدت پسند ہلاک ہو گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسند کی شناخت عبداللہ جان عرف ابو دجانہ کے نام سے ہوئی ہے، جو افغان صوبہ پکتیا کے ضلع گردیز کا رہائشی تھا۔ وہ مبینہ طور پر ٹی ٹی پی سے وابستہ تھا اور خوست کے علاقے سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
Update: A TTP-linked militant, identified as Afghan national Abdullah Jan alias Abu Dujana, son of Nawaz Khan from Gardez district of Paktia province, was killed in a security forces operation during an infiltration attempt from Khost province at the Pakistan–Afghanistan border… https://t.co/PB1KUG2ymQ pic.twitter.com/M8mWCV4eio
— Mahaz (@MahazOfficial1) April 19, 2026
ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں شدت پسند مارا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسند کی لاش افغان حدود میں رہ گئی تھی، جسے بعد ازاں افغان طالبان حکام نے اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا۔
ذرائع کے مطابق عبداللہ جان کی نماز جنازہ 13 اپریل کو افغانستان میں ادا کی گئی، جس میں مقامی افراد نے شرکت کی۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں، تاہم فورسز چوکس ہیں اور ہر قسم کی دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان بارہا افغان حکام سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے تاکہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
دیکھئیے:رحیمہ بی بی کیس: دہشت گردی میں خواتین کا استعمال اور سرحد پار محفوظ ٹھکانوں کا انکشاف