ٹرمپ کا بڑا اعلان، امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد پہنچیں گے

ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکی وفد پاکستان پہنچ کر ایران سے متعلق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گا۔ اگرچہ انہوں نے وفد کے ارکان یا مذاکرات کے مکمل ایجنڈے کی تفصیل نہیں دی، تاہم ان کے اعلان سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر امریکا ایران رابطوں کے لیے مرکزی مقام بن رہا ہے۔
مذاکرات کل اسلام آباد میں ہوں گے

امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایران پر آبنائے ہرمز میں فائرنگ کر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

April 19, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نمائندے ایران سے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد پہنچیں گے، جس کے بعد پاکستان ایک بار پھر اہم سفارتی سرگرمی کا مرکز بن گیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا بیان میں کیا، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں ممکنہ بات چیت کو نمایاں کرتے ہوئے اسے آئندہ پیشرفت کے لیے اہم قرار دیا۔

ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکی وفد پاکستان پہنچ کر ایران سے متعلق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گا۔ اگرچہ انہوں نے وفد کے ارکان یا مذاکرات کے مکمل ایجنڈے کی تفصیل نہیں دی، تاہم ان کے اعلان سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر امریکا ایران رابطوں کے لیے مرکزی مقام بن رہا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایران پر آبنائے ہرمز میں فائرنگ کر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا رخ ایک فرانسیسی بحری جہاز اور برطانیہ کے ایک تجارتی جہاز کی جانب تھا، جسے انہوں نے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان غیر معمولی ہے، کیونکہ ان کے بقول امریکی ناکہ بندی پہلے ہی اس اہم گزرگاہ کو بند کر چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بندش سے سب سے زیادہ نقصان خود ایران کو ہو رہا ہے اور روزانہ کروڑوں ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔

اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ بھی کی اور کہا کہ امریکا ایک منصفانہ اور معقول معاہدے کی پیشکش کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اس پیشکش کو قبول کرے گا، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ٹرمپ کا لہجہ اپنے پورے بیان میں سخت اور دباؤ بڑھانے والا تھا، تاہم اس کے باوجود ان کے اعلان کا سب سے اہم پہلو یہی رہا کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد آ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف امریکا ایران کشیدگی میں رابطہ کار کا کردار برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اسلام آباد اب بھی ممکنہ سفارتی حل کے لیے قابل قبول مقام سمجھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں میں سرگرم رہا ہے، جبکہ امریکی صدر اس سے پہلے بھی پاکستان کی قیادت اور ثالثی کردار کو سراہ چکے ہیں۔ ایسے میں امریکی وفد کی متوقع اسلام آباد آمد کو خطے میں سفارتی عمل کے اگلے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دیکھئیے:فاکس نیوز رپورٹ: ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان بیک چینل رابطوں میں متحرک

متعلقہ مضامین

امریکی مڈٹرم انتخابات میں دو مسلم امیدوار کامیاب ہوگئے۔ غزہ میں زخمی فلسطینیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی نیو جرسی سے کانگریس پہنچ گئے۔

November 4, 2026

افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں نیشنل فریڈم فرنٹ کے حملے کے بعد طالبان کے عسکری کندک میں شدید خوف پھیل گیا، واقعے میں 3 طالبان ہلاک اور 1 زخمی ہو گیا۔

November 4, 2026

امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بعد پی ٹی آئی ایک بار پھر غیر ملکی سیاست سے امیدیں وابستہ کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عدالتی نظام پر ان تبدیلیوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

November 4, 2026

امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل ہوگئی، ٹرمپ نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *