امریکی مڈٹرم انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی شکست اور ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اندر ایک بار پھر سیاسی خوش فہمیوں کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاہم، آئینی و قانونی حقائق سے لا علم پی ٹی آئی کی قیادت یہ سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ مڈٹرم انتخابات میں کانگریس یا سینیٹ کا کنٹرول بدلنے سے امریکی صدارت یا وائٹ ہاؤس کے اختیارات ختم نہیں ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت جنوری 2029 تک برقرار ہے اور خارجہ پالیسی کے حتمی اختیارات بدستور وائٹ ہاؤس کے پاس ہی رہیں گے۔
پی ٹی آئی کی پوری سیاسی تاریخ بیرونی سہارے اور متضاد بیانیوں پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ماضی میں جن اداروں اور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، بعد میں انہی کے گرد امیدیں باندھی گئیں۔ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے موقع پر پی ٹی آئی کے اوورسیز چیپٹرز اور حامیوں نے ٹرمپ کی جیت کے لیے باقاعدہ لابنگ کی اور یہ امید لگائی کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں آتے ہی عمران خان کی رہائی کے لیے مداخلت کریں گے۔ لیکن جب وہی صدر ٹرمپ پاکستان کی موجودہ حکومت اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہوئے تو پی ٹی آئی نے انہی کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
اب 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی پارٹی کی شکست پر پی ٹی آئی کی جانب سے دوبارہ خوشیاں منایا جانا ان کی شدید سیاسی کنفیوژن اور ذہنی دیوالیہ پن کی نشاندہی کرتا ہے۔ 2024ء میں ٹرمپ کی فتح سے امیدیں باندھنا اور 2026ء میں انہی کی شکست پر عمران خان کی رہائی کا مژدہ سنانا، ایک مربوط سیاسی حکمت عملی کے بجائے محض جذباتی اور غیر منطقی بیانیے کا ثبوت ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ 2018ء کے مڈٹرم میں اکثریت کھونے کے باوجود ٹرمپ نے 2019ء میں بطور صدر وائٹ ہاؤس میں سفارتی ملاقاتیں کیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسی محض کانگریسی انتخابات سے نہیں بدلتی۔
پاکستان اور امریکہ کے اسٹریٹجک تعلقات، پینٹاگون اور سینٹ کام کی ترجیحات قومی مفادات پر مبنی ہیں نہ کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی پسند و ناپسند پر۔ پی ٹی آئی کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے بانی عمران خان کے تمام قانونی اور عدالتی معاملات کا حل واشنگٹن کے رحم و کرم پر تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکی کانگریس یا وہاں کی کوئی قرارداد پاکستان کے آئینی اور عدالتی نظام کو بدلا نہیں سکتی۔ تحریک انصاف کو غیر ملکی انتخابات سے معجزوں کی امید رکھنے کے بجائے یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ عمران خان کا مقدمہ پاکستان کے آئین، قانون اور عدالتوں کے ذریعے ہی حل ہوگا، واشنگٹن کی مڈٹرم سیاست سے نہیں۔





