امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ریپبلکنز پر برتری حاصل کرلی ہے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو ایوان نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 190 اور ریپبلکنز کے 110 امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔ 435 رکنی ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 218 نشستیں درکار ہیں۔
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں بھی ڈیموکریٹس کو سبقت حاصل ہے۔ ڈیموکریٹک امیدواروں کو 17 نشستوں پر برتری کے بعد مجموعی تعداد 51 ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکنز کے امیدوار 8 نشستوں پر آگے ہیں اور ان کی مجموعی تعداد 39 ہوگئی ہے۔ سینیٹ کی 100 نشستوں میں سادہ اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہیں۔
ٹرمپ کا نتائج تسلیم کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے دونوں جماعتیں کسی معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرلیں۔ تین امریکی خلابازوں نے خلا سے ووٹ کاسٹ کیا۔
مسلم امیدوار بھی میدان میں
امریکی مڈٹرم انتخابات میں مسلم امیدواروں نے بھی حصہ لیا۔ مشی گن سے فلسطینی نژاد امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب دوبارہ انتخابی میدان میں ہیں، جہاں ان کا مقابلہ چار امیدواروں سے ہے۔
کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب کا مقابلہ اپنی ہی جماعت کی امیدوار میلیسا ہرنینڈز سے ہے۔ اس کے علاوہ ریپبلکن امیدوار جیمز ہوپر سمیت دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔





