افغانستان کے سرحدی صوبے نیمروز سے مبینہ پاکستانی ڈرون حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ کاروائی ‘آپریشن غضب للحق’ کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ مقامی ذرائع اور حکام کے مطابق اس کارروائی میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم فوری طور پر جانی نقصان یا ہدف کی شناخت کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
صوبہ نیمروز کی پولیس کے ترجمان نے علاقے میں ڈرون کی سرگرمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فضا میں مشکوک ڈرون نظر آنے پر طالبان سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گاڑی میں کون سوار تھا اور اس کا مالک کون تھا۔
طالبان حکومت کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی پاکستانی حکام کی طرف سے اس آپریشن یا حملے کے حوالے سے کوئی موقف سامنے آیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ڈرون کی ان مبینہ پروازوں نے علاقے میں صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔