ایرانی وزارتِ خارجہ نے موجودہ علاقائی و بین الاقوامی تناظر میں جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو انتہائی اہمیت دیتے ہوئے اسے واحد باضابطہ ثالث قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان اس وقت سفارتی عمل میں واحد سرکاری ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مختلف ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
Iranian Foreign Ministry spokesman Esmaeil Baqaei said Pakistan is currently the only official mediator in the diplomatic process. pic.twitter.com/d26R8re8lW
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) April 20, 2026
اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستان کی جانب سے نبھایا جانے والا یہ کردار نہ صرف باضابطہ ہے بلکہ ایران اسے موجودہ حالات میں انتہائی معتبر تسلیم کرتا ہے۔ اگرچہ ترجمان نے ان مخصوص ممالک یا معاملات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں جن کے لیے پاکستان ثالثی کر رہا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اسے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال اور ایران کے دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی ایران اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے پاکستان کو ‘واحد سرکاری ثالث’ تسلیم کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔