بین الاقوامی تعلقات اور معاہدات کی تاریخ میں “معاہدہ سندھ طاس” کو ایک ایسی دستاویز سمجھا جاتا رہا ہے جس نے جنگوں اور شدید ترین تناؤ کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تقسیم کے نظام کو برقرار رکھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے نے نہ صرف خطے کے استحکام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی اخلاقی و قانونی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بھارت نے اس سنگین اقدام کے لیے “پہلگام واقعے” کو بنیاد بنایا ہے، لیکن قانونی اور شواہد پر مبنی تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ جواز ریت کی دیوار سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔
بین الاقوامی اصولوں سے انحراف
بھارتی اقدام کا سب سے کمزور پہلو اس کی قانونی حیثیت ہے۔ بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول (معاہدوں کی پابندی لازم ہے) تقاضا کرتا ہے کہ ریاستیں اپنے دستخط شدہ معاہدوں کا احترام کریں۔ معاہدۂ سندھ طاس میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل کرنے کا اختیار دیتی ہو۔ بھارت کا یہ طرزِ عمل نہ صرف اس معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بطور ایک ذمہ دار ریاست شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
شواہد کی عدم موجودگی
پہلگام واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کے لیے بھارت اب تک کوئی بھی ایسا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے جسے کسی ثالثی فورم، عالمی عدالت یا اقوامِ متحدہ کے نظام نے تسلیم کیا ہو۔ جب کسی دعوے کے پیچھے عدالتی یا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ شواہد موجود نہ ہوں، تو وہ محض ایک “سیاسی الزام” بن کر رہ جاتا ہے۔ بھارت کا غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر اتنا بڑا تزویراتی فیصلہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہاں ریاست کی پالیسی شواہد کے بجائے سیاسی مصلحتوں اور قیاس آرائیوں کے تابع ہو چکی ہے۔
شفافیت کا فقدان
بھارت کی قانونی پوزیشن اس وقت مزید کمزور دکھائی دیتی ہے جب وہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ شفافیت اور جوابدہی کسی بھی جمہوری اور قانون پسند معاشرے کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کے سوالات کو نظر انداز کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت کے پاس اپنے الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس دفاع موجود نہیں ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قانونی عمل کا خیر مقدم کیا ہے اور تحقیقات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جو ایک ذمہ دار ریاست کا شیوہ ہے۔
انسانی بحران کا خدشہ
پاکستان ایک زیریں دریا والا ملک ہے جس کی زراعت، توانائی اور انسانی سلامتی کا مکمل انحصار سندھ طاس کے پانیوں پر ہے۔ بھارت کا یہ اقدام پاکستان پر غیر متناسب خطرات مسلط کرنے کی کوشش ہے، جو کہ بین الاقوامی آبی قوانین کے تحت ایک “آبی جارحیت” کے زمرے میں آتا ہے۔ پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف سفارتی تنہائی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک نئے انسانی اور معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
حاصلِ کلام
بھارت کا یہ رویہ طے شدہ ادارہ جاتی راستوں اور تنازعات کے حل کے متفقہ طریقۂ کار کو کمزور کر رہا ہے۔ اگر بین الاقوامی معاہدوں کو اسی طرح سیاسی رنگ دے کر معطل کیا جانے لگا تو عالمی نظام کا بھروسہ ختم ہو جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت غیر مصدقہ دعووں اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے اور آبی معاملات کو مذہب یا سیاست کی عینک سے دیکھنے کے بجائے انسانی اور قانونی تناظر میں حل کرے۔ بصورتِ دیگر، اس کی یہ قانونی بے ضابطگی اسے عالمی فورمز پر تنہا کر سکتی ہے، جس کے طویل المدتی اثرات پورے جنوبی ایشیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔