چین نے امریکی افواج کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز کو زبردستی روکے جانے اور اسے تحویل میں لینے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ جہاز کو زبردستی روکے جانے سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، لہٰذا بیجنگ اس اقدام کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
مذاکرات اور چین کا کردار
ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک انتہائی نازک مرحلے پر ہیں، جہاں معمولی سی غلطی پورے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین ان مذاکرات میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ چینی حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام فریقین جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کے لیے ذمہ دارانہ انداز میں کام کریں گے۔
کاروائی کی تفصیلات
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں امریکی میرینز کو ایرانی جہاز پر قبضہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنا کر اسے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ایم وی توسکا کی صورتحال
عالمی میرین ڈیٹا کے مطابق ’ایم وی توسکا‘ نامی یہ کنٹینر شپ ایرانی پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ اطلاعات کے مطابق قبضے سے چند گھنٹے قبل جہاز کی رفتار انتہائی کم (1.2 ناٹس) ریکارڈ کی گئی تھی۔ دوسری جانب ایرانی عسکری ترجمان ’خاتم الانبیاء‘ نے امریکی کارروائی کو ‘مسلح ڈکیتی’ قرار دیتے ہوئے اس کا جلد جواب دینے کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد خطے میں بحری سلامتی کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔