افغانستان کی اسلامی وحدت پارٹی کے سربراہ اور سپریم مزاحمتی کونسل کے اہم رکن محمد محقق نے ایک تاریخی اور اہم ترین بیان میں ڈیورنڈ لائن کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان باضابطہ سرکاری سرحد کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ افغان سیاست میں اس بیان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان بحث کا موضوع رہا ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق محمد محقق نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی جماعت افغانستان کی سیاسی جغرافیہ کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی جانب سے طے کردہ تقسیم اور بین الاقوامی قوانین کے مکمل پابند ہیں۔
محمد محقق، رهبر حزب وحدت اسلامی مردم افغانستان و عضو شورای عالی مقاومت گفت که خط دیورند را به عنوان مرز رسمی افغانستان و پاکستان بهرسمیت میشناسد.
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) April 19, 2026
او تاکید کرد که به «تقسیمبندی سازمان ملل متحد» در مورد جغرافیای سیاسی افغانستان متعهد است. https://t.co/A9t8m1Oa8u pic.twitter.com/buk61tkoNn
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ڈیورنڈ لائن دونوں ممالک کے درمیان ایک طے شدہ حقیقت اور سرکاری سرحد ہے، جسے تسلیم کرنا علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
محمد محقق کا یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت اور پاکستان کے درمیان سرحدی امور اور سیکیورٹی کے مسائل پر تناؤ پایا جاتا ہے۔ سپریم مزاحمتی کونسل کے رکن کی جانب سے اس بین الاقوامی سرحد کی توثیق نے افغان سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ روایتی طور پر افغانستان کے کئی سیاسی گروہ اس سرحد کو تسلیم کرنے سے کتراتے رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ کے جغرافیائی نقشوں کی پابندی کا حوالہ دے کر محمد محقق نے عالمی سطح پر ایک ذمہ دارانہ سیاسی موقف اپنانے کی کوشش کی ہے۔