اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی گئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر گفتگو کی ہے۔
متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ رائٹرز سمیت کسی بھی ملکی یا غیر ملکی خبر رساں ادارے کو ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس نوعیت کی تمام رپورٹس سراسر جعلی، من گھڑت اور کلاسک ‘مس انفارمیشن’ کا نمونہ ہیں۔

ایرانی مؤقف
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا حالیہ بیان کہ “ابھی تک کوئی منصوبہ نہیں”، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تہران مذاکرات پر فعال طور پر غور کر رہا ہے لیکن حتمی فیصلے کو موخر رکھنا دباؤ بڑھانے کا ایک روایتی سفارتی حربہ ہے۔ ترجمان نے اس بات کی بھی توثیق کی ہے کہ پاکستان اس وقت واحد سرکاری ثالث کے طور پر اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور طے پانے کی صورت میں اسلام آباد ہی میزبان ہوگا۔
مذاکرات کی موجودہ صورتحال
حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل فعال طور پر جاری ہے اور دونوں وفود کے اسلام آباد آنے کی قوی امیدیں موجود ہیں۔ دونوں فریقین کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مثبت رجحان رکھتے ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی نتیجے یا تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے۔ سفارتی عمل اپنی رفتار سے جاری ہے اور اسے غیر ضروری میڈیا قیاس آرائیوں سے الگ رکھنا ناگزیر ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح یہ میڈیا سگنلنگ اور سیاسی پوزیشننگ ایران کی جانب سے مذاکرات کے اگلے دور سے پہلے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور اپنی اندرونی سیاست کو مطمئن کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
میڈیا کے لیے احتیاط
موجودہ صورتحال میں میڈیا کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دونوں انتہاؤں سے گریز کرے۔ نہ تو یہ تاثر دیا جائے کہ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو کر ٹوٹ چکا ہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا جائے کہ کوئی حتمی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
مذاکرات کی موجودہ صورتحال
حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل فعال طور پر جاری ہے اور دونوں وفود کے اسلام آباد آنے کی قوی امیدیں موجود ہیں۔ دونوں فریقین کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مثبت رجحان رکھتے ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی نتیجے یا تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے۔ سفارتی عمل اپنی رفتار سے جاری ہے اور اسے غیر ضروری میڈیا قیاس آرائیوں سے الگ رکھنا ناگزیر ہے۔