تجزیہ کاروں کے مطابق رائٹرز کی رپورٹ مکمل طور پر گمنام ذرائع پر مبنی ہے، جس میں کسی بھی سرکاری مؤقف یا دستاویزی ثبوت کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ معاہدے کی منسوخی کو بطور حقیقت پیش کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔

April 20, 2026

رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہو سکتے ہیں تاکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں حصہ لیا جا سکے۔

April 20, 2026

دوسری جانب افغان میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں شامل 13 سے 14 ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزرائے اعظم، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت دیگر اہم شخصیات شامل بتائی جاتی ہیں۔

April 20, 2026

ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور اس مرحلے پر کوئی کھیل نہیں ہو رہا۔” انہوں نے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔

April 20, 2026

پوڈکاسٹ کے دوران میزبان کی جانب سے اداکارہ سے ان کی ذاتی زندگی اور ماضی سے متعلق متنازع سوالات کیے گئے، جن پر میرا نے بارہا گفتگو کو اپنی فلم کی طرف موڑنے کی کوشش کی، تاہم میزبان مسلسل حساس موضوعات پر سوالات کرتے رہے۔

April 20, 2026

داسن شناکا نے اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ، لاہور قلندرز، شائقین اور پوری کرکٹ کمیونٹی سے معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل ایک باوقار لیگ ہے اور ان کے اقدام سے شائقین کو مایوسی ہوئی، جس پر وہ دل سے شرمندہ ہیں۔

April 20, 2026

پی ایس ایل معاہدے کی خلاف ورزی پر داسن شناکا پر ایک سال کی پابندی عائد

داسن شناکا نے اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ، لاہور قلندرز، شائقین اور پوری کرکٹ کمیونٹی سے معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل ایک باوقار لیگ ہے اور ان کے اقدام سے شائقین کو مایوسی ہوئی، جس پر وہ دل سے شرمندہ ہیں۔
داسن شناکا پی ایس ایل سے باہر

بورڈ کا کہنا ہے کہ لیگ کے قوانین اور معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ ٹورنامنٹ کی ساکھ اور معیار برقرار رکھا جا سکے، اسی لیے خلاف ورزی پر کارروائی ناگزیر تھی۔

April 20, 2026

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیتے ہوئے سری لنکن آل راؤنڈر داسن شناکا پر پاکستان سپر لیگ میں ایک سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

پی سی بی کے مطابق داسن شناکا کو پی ایس ایل سیزن 11 کے لیے لاہور قلندرز نے سائن کیا تھا، تاہم انہوں نے ایونٹ شروع ہونے سے قبل دستبرداری اختیار کر لی، جو معاہدے کی واضح خلاف ورزی قرار دی گئی۔ اس اقدام کے بعد انہیں اگلے ایڈیشن، یعنی پی ایس ایل 12 میں شرکت کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ لیگ کے قوانین اور معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ ٹورنامنٹ کی ساکھ اور معیار برقرار رکھا جا سکے، اسی لیے خلاف ورزی پر کارروائی ناگزیر تھی۔

دوسری جانب داسن شناکا نے اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ، لاہور قلندرز، شائقین اور پوری کرکٹ کمیونٹی سے معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل ایک باوقار لیگ ہے اور ان کے اقدام سے شائقین کو مایوسی ہوئی، جس پر وہ دل سے شرمندہ ہیں۔

شناکا نے وضاحت دی کہ دستبرداری کے وقت ان کا کسی دوسرے ٹورنامنٹ میں شرکت کا ارادہ نہیں تھا، اور انہوں نے ہمیشہ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کو سراہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں نئی لگن کے ساتھ پی ایس ایل میں واپسی کر سکیں گے۔

پی سی بی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد دیگر کھلاڑیوں کے لیے بھی واضح پیغام دینا ہے کہ لیگ کے معاہدوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

دیکھئیے:پی ایس ایل 11: ملتان سلطانز کی کراچی کنگز کے خلاف 11 رنز سے سنسنی خیز فتح

متعلقہ مضامین

تجزیہ کاروں کے مطابق رائٹرز کی رپورٹ مکمل طور پر گمنام ذرائع پر مبنی ہے، جس میں کسی بھی سرکاری مؤقف یا دستاویزی ثبوت کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ معاہدے کی منسوخی کو بطور حقیقت پیش کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔

April 20, 2026

رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہو سکتے ہیں تاکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں حصہ لیا جا سکے۔

April 20, 2026

دوسری جانب افغان میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں شامل 13 سے 14 ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزرائے اعظم، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت دیگر اہم شخصیات شامل بتائی جاتی ہیں۔

April 20, 2026

ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، اور اس مرحلے پر کوئی کھیل نہیں ہو رہا۔” انہوں نے شکوک و شبہات کو مسترد کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔

April 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *