واشنگٹن: امریکی تحقیقاتی ادارے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کے 20 فیصد سے زائد رہنما ماضی میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں، جبکہ افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کے متعدد اہم ارکان عالمی پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے حکومتی ڈھانچے میں شامل ایک بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے جن پر شدت پسند کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے الزامات رہے ہیں۔
دوسری جانب افغان میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں شامل 13 سے 14 ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزرائے اعظم، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی سمیت دیگر اہم شخصیات شامل بتائی جاتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں طالبان سے وابستہ مجموعی طور پر 135 افراد اور 5 اداروں کے نام درج ہیں۔ ان افراد پر مالی اثاثے منجمد کرنے، بین الاقوامی سفر پر پابندی اور اسلحہ کی خرید و فروخت پر قدغن جیسی پابندیاں عائد ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی رپورٹس اور پابندیاں طالبان حکومت کی بین الاقوامی سطح پر قبولیت کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ افغانستان کے سفارتی اور معاشی مستقبل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دیکھئیے:قندھار کی اجارہ داری اور افغان عوام کی محرومی؛ شریعت کے نام پر قائم غاصبانہ نظام