ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں دو غیر ملکی بحری جہازوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ کے مطابق، یہ کاروائی جہاز رانی کے قوانین کی خلاف ورزی اور بحری سلامتی کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر کی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا نے قبضے میں لیے گئے بحری جہازوں کی شناخت ‘ایم ایس سی فرانسسکا’ اور ‘ایپامنونڈاس’ کے نام سے کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان دونوں جہازوں پر اس سے قبل اسی آبی گزرگاہ میں فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کو ایرانی ساحل کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں باقاعدہ طور پر کس طریقہ کار کے تحت “قبضے” میں لیا گیا ہے۔
خلاف ورزیوں کے الزامات
تسنیم نیوز ایجنسی نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ جہاز ضروری اجازت ناموں کے بغیر آپریٹ کر رہے تھے اور انہوں نے نیوی گیشن سسٹم (جہاز رانی کے آلات) میں مداخلت کر کے بحری سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ان جہازوں کا رویہ بین الاقوامی سمندری قوانین کے خلاف تھا، جس کے باعث ان کے خلاف ایکشن لیا گیا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
ایران کی جانب سے یہ کاروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں امریکہ نے ایران کے ایک بحری جہاز کو قبضے میں لیا تھا اور ایک دوسرے جہاز کی تلاشی لی تھی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو قبضے میں لینے کا یہ واقعہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بحری اور سفارتی کشیدگی کا تسلسل ہے، جس سے عالمی تجارتی گزرگاہوں میں عدم استحکام کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔