ایران کے سرکاری میڈیا نیٹ ورک پر پاکستانی ثالثی کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد سفارتی حلقوں نے پاکستان کے سہولت کاری کے کردار پر اہم وضاحت پیش کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی دکھاوے کی سفارت کاری کے بجائے عمل کی شفافیت اور نتائج پر مبنی ہے، جہاں ترجیح کسی علامتی ملاقات کے بجائے خطے میں کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔
سہولت کاری کا کردار اور غیر جانبداری
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کا کردار ایک سہولت کار کا ہے، کسی ہدایت کار کا نہیں۔ پاکستان کسی بھی صورت ایران یا امریکہ پر اپنے فیصلے، ٹائم لائنز یا نتائج مسلط کرنے کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ثالثی کا عمل کئی متوازی ذرائع سے جاری رہتا ہے اور عوامی سطح پر کسی ردِعمل کی عدم موجودگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مذاکراتی عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
سفارت کاری کی پیچیدگیاں
پاکستان کے سفارتی بیانیے کے مطابق خفیہ سفارت کاری اپنی ساخت کے اعتبار سے خاموش اور مرحلہ وار ہوتی ہے۔ عوامی سطح پر دیے جانے والے اشارے اکثر اصل مذاکراتی عمل سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مستقل رابطہ برقرار رکھا ہے تاکہ عوامی خاموشی کے دوران بھی مکالمے کا تسلسل ٹوٹنے نہ پائے۔ “فوری جواب” کی توقعات سکیورٹی، پابندیوں اور علاقائی حالات جیسے پیچیدہ معاملات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں۔
مذاکراتی فریم ورک
ایران اور امریکہ کے درمیان 10 نکاتی تجاویز سے توسیعی فریم ورک کی جانب بڑھنا ایک معیاری مذاکراتی رویہ ہے، جسے ثالثی کی ناکامی تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاریخی مثالیں بتاتی ہیں کہ ایسے حساس معاملات میں اتفاقِ رائے سے پہلے کئی بار تجاویز میں ردو بدل ہوتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی کا اصل مقصد دکھاوے کی ملاقاتوں کے بجائے ایک ایسی ٹھوس گنجائش برقرار رکھنا ہے جہاں دونوں فریق کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔
علاقائی استحکام اور قومی مفاد
پاکستان کا اس تمام عمل میں بنیادی مفاد علاقائی استحکام، بالخصوص خلیج کی معاشی اور سیکیورٹی راہداریوں کا تحفظ ہے۔ پاکستان کا سفارتی موقف غیر جانبداری اور رازداری پر قائم ہے، جہاں عوامی سطح پر الزام تراشی یا دباؤ کے ہتھکنڈوں سے گریز کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلہ مذاکراتی ترتیب کا ہے، جو کسی بھی بڑی سفارتی پیش رفت سے پہلے کا ایک لازمی اور فطری مرحلہ ہوتا ہے۔