تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کی تعریف کی ہے، تاہم انہوں نے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے حالیہ اعلان پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم، جب ان سے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں 3 سے 5 دن کی توسیع کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ تہران اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔
BREAKING: Iran’s FM spokesman Esmaeil Baghaei says the Islamic republic appreciates Pakistan’s mediation to end the war but will not comment on the US ceasefire extension, stressing Iran is acting to protect its interests and security.
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) April 22, 2026
🔴More on https://t.co/hGzrK2N8WC pic.twitter.com/V3dt1IxS2k
اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ ایران کے تمام تر اقدامات اور فیصلے صرف اور صرف اپنے قومی مفادات، وقار اور سیکیورٹی کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ تہران کسی بھی دباؤ یا ڈیڈ لائن کے بجائے اپنی قومی سلامتی کی ضروریات کے مطابق فیصلہ سازی کرے گا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق ایرانی ترجمان کا یہ بیان ایک طرف پاکستان کے کلیدی کردار کی توثیق کرتا ہے، تو دوسری جانب واشنگٹن کی “ڈیڈ لائن ڈپلومیسی” کے سامنے فوری طور پر سر تسلیم خم نہ کرنے کی حکمت عملی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ تہران کا یہ محتاط ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو مذاکرات کے دوسرے دور کی امید ظاہر کی ہے۔