یونیورسٹی آف لاہور کے سینٹر فار سکیورٹی، اسٹریٹجی اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس ایس پی آر) نے ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس کا عنوان ‘ان پیکنگ المرصاد: نیریٹوز، پراپیگنڈا اینڈ دی ڈس انفارمیشن وار اگینسٹ پاکستان’ ہے ۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ‘المرصاد’ نامی پلیٹ فارم دراصل افغان طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے کا تیار کردہ ایک مکارانہ پراپیگنڈا ہتھیار ہے جو صحافت کی آڑ میں پاکستان کے خلاف منظم مہم چلا رہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس کا بنیادی مقصد پاکستان کے ریاستی تشخص کو مسخ کرنا اور اس کے شہریوں سمیت عالمی شراکت داروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے ۔
سفارتی کوششوں کو نقصان
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ المرصاد کوئی آزاد صحافتی ادارہ نہیں بلکہ افغان طالبان کا ایک ایسا آلہ ہے جو پاکستان کی قیامِ امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے ۔ خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کے ثالثی کردار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو ایک ‘ایران مخالف’ ریاست اور مغربی ایجنڈے پر عمل پیرا ملک کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ یہ مہم ایک ایسے وقت میں تیز کی گئی ہے جب پاکستان کی سہولت کاری سے آٹھ اپریل کو فریقین کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا ۔ المرصاد ان حقائق کی نفی کر کے پاکستان کی ساکھ کو عالمی سطح پر متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
بھارت اور افغان مذموم گٹھ جوڑ
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خلاف اس انفارمیشن وار میں بھارت اور افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا گٹھ جوڑ بھی سامنے آیا ہے ۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے ایک ماہ بعد یہ انکشاف ہوا کہ بھارتی اور افغان آپریٹرز جعلی ایرانی ہینڈلز کے ذریعے پاک ایران تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ یہ صورتحال 2020 میں سامنے آنے والی ‘انڈین کرونیکلز’ رپورٹ کی یاد دلاتی ہے جس میں یورپی یونین ڈس انفولیب نے پاکستان کے خلاف بھارت کی 15 سالہ طویل ڈس انفارمیشن مہم کو بے نقاب کیا تھا، جس کا مقصد مغربی ممالک کی پالیسیوں کو پاکستان کے لیے نقصان دہ بنانا تھا ۔ سی ایس ایس پی آر نے المرصاد کو اسی وسیع تر ڈس انفارمیشن ایکو سسٹم کا حصہ قرار دیا ہے ۔
انتہاء پسندی کا فروغ
یونیورسٹی آف لاہور کی تحقیقات اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ المرصاد مذہب کی آڑ میں دہشت گردی اور تشدد کو جائز قرار دے رہا ہے ۔ یہ پلیٹ فارم مذہبی اصطلاحات اور تاریخی واقعات کا غلط سہارا لے کر انتہا پسندانہ بیانیے کو فروغ دیتا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے مذہب کا غلط استعمال کر رہا ہے ۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ المرصاد خبروں کے لبادے میں انتہا پسند بیانیے کی تشہیر کر کے پاکستان میں داخلی عدم استحکام پیدا کرنے اور نسلی گروہوں میں دوریاں پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے ۔ اس مہم کا حتمی مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا اور اس کے عالمی تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا ہے ۔