جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک سیاسی ظہور کے دوران جلاوطن ایرانی رہنماء اور سابق ولی عہد رضا پہلوی کو اس وقت ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ایرانی مظاہرین نے ان پر کیچپ پھینک دی. اس واقعے نے تقریب میں موجود شرکاء اور سکیورٹی حکام میں کھلبلی مچا دی.
واقعے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق رضا پہلوی برلن میں ایک عوامی مقام پر لوگوں سے خطاب یا ملاقات کے لیے موجود تھے کہ اچانک مجمع میں موجود ایک شخص نے ان کی جانب کیچپ سے بھری بوتل اچھال دیا. جو رضا پہلوی کے چہرے اور لباس پر گری، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے حملہ آور کو حراست میں لے لیا.
JUST IN:
— Current Report (@Currentreport1) April 23, 2026
An Iranian demonstrator threw tomato sauce at Reza Pahlavi during an appearance in Berlin, Germany. pic.twitter.com/tofwVZyEdF
احتجاج کا پس منظر
رضا پہلوی، جو ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کے صاحبزادے ہیں، طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں اور موجودہ ایرانی حکومت کے بڑے ناقد تصور کیے جاتے ہیں. تاہم جلاوطن ایرانیوں کا ایک حلقہ ان کے شاہی پس منظر اور ماضی کی بادشاہت کے حوالے سے شدید تحفظات رکھتا ہے. برلن میں ہونے والا یہ حملہ اسی اندرونی سیاسی تقسیم اور رضا پہلوی کی قیادت کے خلاف بعض حلقوں کے غصے کا اظہار معلوم ہوتا ہے.
سکیورٹی پر سوالات اور تحقیقات
جرمن پولیس نے واقعے کی باقاعدہ رپورٹ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے. اس واقعے نے جلاوطن رہنماؤں کی عوامی تقریبات میں سکیورٹی کے انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں. رضا پہلوی کے ترجمان یا ان کی ٹیم کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر اس عمل کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے.