اسلام آباد: وال اسٹریٹ جرنل میں سدانند دھومے کا حالیہ کالم، جس میں پاکستان کی معاشی ترقی کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے، سفارتی اور صحافتی حلقوں میں ایک نئے بحث کا پیش خیمہ بن گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مضمون پاکستان کی معاشی اصلاحات سے زیادہ ان بھارتی خدشات کی ترجمانی کرتا ہے جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی کردار، بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ ثالثی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
دھومے نے اپنے مضمون “پاکستان کی اسرائیل سے نفرت اسے پیچھے دھکیل رہی ہے” میں یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کو بھارت کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے چاہئیں۔ تاہم، ماہرین اور سابق وزراء نے اسے ایک “پلانٹڈ ہٹ پیس” قرار دیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر شفقت محمود کے مطابق یہ ایک ایسے بھارتی نواز لکھاری کی تحریر ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان امن عمل میں پاکستان کی مرکزی اہمیت سے سخت پریشان ہے۔
معاشی دلائل اور حقائق کا تضاد
دھومے کا دعویٰ کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا پاکستان کی معیشت کی راہ میں رکاوٹ ہے، عالمی بینک اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.0 فیصد رہی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 20 فیصد اضافہ ہوا اور ترسیلاتِ زر 35 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے معاشی چیلنجز کا تعلق توانائی کے شعبے، ٹیکس اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے، نہ کہ فلسطین کے حوالے سے اس کے اصولی موقف سے۔
مضمون کا وقت اور پس منظر
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مضمون 22 اپریل کو شائع ہوا، جو ایک طرف پہلگام واقعے کی برسی ہے اور دوسری طرف اسلام آباد 1979 کے بعد پہلی بار امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ سابق میڈیا ایڈوائزر عمر قریشی کے مطابق، زیادہ حقیقت پسندانہ مضمون بھارت کی پاکستان کے خلاف “جنونی سوچ” پر ہونا چاہیے تھا۔
تزویراتی پہلو
تجزیہ کار ڈین قیوم کے مطابق، سدانند دھومے کا تعلق ‘امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ’ (AEI) سے ہے، جو ایک اسرائیل نواز تھنک ٹینک سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کالم معاشی حقائق کے بجائے سیاسی ایجنڈے پر مبنی نظر آتا ہے۔ بھارت نے 1992 میں اسرائیل سے تعلقات استوار کیے، لیکن اس کے نتیجے میں اسے ہتھیاروں کی ضرورت سے زیادہ وابستگی اور پیگاسس جیسے تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران کے سفیر کا یہ بیان کہ “ایران صرف پاکستان میں مذاکرات کرے گا کیونکہ ہمیں پاکستان پر بھروسہ ہے”، بھارت کے اس بیانیے کی مکمل نفی کرتا ہے جس میں پاکستان کو ایک ناقابلِ اعتبار ریاست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان “ناگزیر ثالث” بن کر ابھرنا نئی دہلی کے لیے شدید سفارتی پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
دیکھئیے:بھارتی ٹی وی نیٹ ورک ‘ون انڈیا’ ہیک، افغان طالبان اور مودی حکومت کے تعلقات کے خلاف سائبر حملہ