واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر ایرانی کشتی کو تباہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے خطے کی مکمل بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری اپنے بیانات میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ جب تک ایران نیا معاہدہ نہیں کرتا، امریکی بحریہ کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز اس اہم بحری گزرگاہ میں داخل ہو سکے گا نہ ہی باہر نکل سکے گا۔
صدر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ دشمن کی ہر چھوٹی یا بڑی کشتی کو نشانہ بنایا جائے، جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک دشمن کے 159 بحری جہاز سمندر برد کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مائن سویپرز سمندر کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کے عمل میں مصروف ہیں اور خطے میں فوجی کارروائیاں تین گنا بڑھا دی گئی ہیں۔
The US has ramped up maritime enforcement efforts, including intercepting ships suspected of helping Iran evade sanctions. Meanwhile, uncertainty has hung over diplomatic efforts. Talks aimed at de-escalating the conflict have faced repeated setbacks. https://t.co/ZZiw3PGw6g
— Caitlin Doornbos (@CaitlinDoornbos) April 23, 2026
امریکی صحافیوں کے مطابق امریکہ نے بحری پابندیوں کے نفاذ کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، جن میں ایران پر عائد پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرنے والے مشکوک بحری جہازوں کو روکنا بھی شامل ہے۔یہ اقدامات ایران پر سخت معاشی اور عسکری دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں۔
سیاسی محاذ پر صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو نئے رہنما کے تعین میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول، ایران کے اندر سخت گیر عناصر اور نام نہاد اعتدال پسندوں کے درمیان اقتدار کی جنگ جاری ہے، جس میں سخت گیر عناصر میدانِ جنگ میں ناکامی کا شکار ہو رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایران کی داخلی کمزوری اور سفارتی تنہائی اسے معاہدے کی میز پر لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
واشنگٹن کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی سختی نے عالمی توانائی کی ترسیل اور علاقائی امن کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ایران نے تاحال صدر ٹرمپ کے ان تازہ ترین دعووں اور اقدامات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔
دیکھئیے:امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعہ سے شروع ہونے کا امکان