کابل: افغانستان نیشنل سنوکر فیڈریشن کے سابق سربراہ وحید اصغری کو نامعلوم افراد نے اغوا کے بعد قتل کر دیا ہے۔ فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل شکیب سخی نے میڈیا کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وحید اصغری کی میت جمعرات کے روز فارنزک حکام نے ان کے لواحقین کے حوالے کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وحید اصغری کو رواں ہفتے منگل کے روز کابل کے علاقے قلعہ فتح اللہ میں ان کی رہائش گاہ کے قریب سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔ دو روز تک لاپتہ رہنے کے بعد ان کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔ وحید اصغری نے طویل عرصے تک افغانستان نیشنل سنوکر فیڈریشن کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ملک میں اس کھیل کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
افغانستان میں کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تاحال کسی گروہ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی اغوا کاروں کے محرکات سامنے آسکے ہیں۔ سنوکر فیڈریشن اور کھلاڑیوں نے وحید اصغری کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔