افغانستان کے نامور سیاسی رہنما اور سابق وزیرِ اطلاعات و ثقافت محمد طاہر زہیر نے ڈیورنڈ لائن کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک باضابطہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد قرار دے دیا ہے۔
مختلف انٹرویوز میں انہوں نے واضح کیا کہ ایک سو تینتیس سالہ تاریخ اور مستند دستاویزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ سرحدی معاملہ مکمل طور پر طے شدہ ہے۔ انہوں نے افغان سیاسی حلقوں پر زور دیا کہ وہ جذباتی سیاست کے بجائے زمینی حقائق کو تسلیم کریں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو دیانتداری اور تعاون کی بنیاد پر استوار کریں۔
طاہر زہیر کا کہنا تھا کہ ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے کیے جانے والے علاقائی دعوے بے بنیاد اور تاریخی حقائق کے منافی ہیں، جو صرف سیاسی مفادات کے حصول اور عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مقیم کروڑوں پشتون، جو شہری سہولیات، ریاستی تحفظ اور خواتین کی تعلیم جیسی آزادیوں سے مستفید ہو رہے ہیں، وہ بھلا ایک ایسے نظام کا حصہ کیوں بننا چاہیں گے جہاں خواتین اور لڑکیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہو۔
سابق گورنر بامیان نے اپنے موقف میں کہا کہ ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ سرحد تسلیم کرنا ہی افغانستان کے مفاد میں ہے اور اس مسئلے کو دوبارہ چھیڑنا افغان عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مستقبل کی افغان حکومتیں پڑوسی ممالک، بالخصوص پاکستان کے ساتھ گہرے اور مستحکم تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول بنائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی ممکن ہو سکے۔
دیکھئیے:ڈیورنڈ لائن پر بدلتا ہوا افغان بیانیہ: جذباتیت کی شکست اور سرحدی حقیقت کا اعتراف