واشنگٹن: امریکہ جیسی عالمی سپر پاور کے صدر کی سکیورٹی میں مسلسل کوتاہیاں اور حالیہ حملے کے واقعے نے امریکی سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دنیا کے محفوظ ترین تصور کیے جانے والے مقام پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے تیسرے حملے کی کوشش کے بعد اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اہم عہدوں پر فائز بھارتی نژاد حکام کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔
اہم سکیورٹی عہدوں پر بھارتی نژاد حکام کا غلبہ
اس وقت امریکہ کے کلیدی سکیورٹی اداروں کی باگ ڈور تلسی گبارڈ (ڈی این آئی) اور کاش پٹیل (ایف بی آئی چیف) جیسے بھارتی نژاد حکام کے ہاتھوں میں ہے۔ ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ان دونوں اعلیٰ عہدیداروں کی موجودگی میں سکیورٹی کے نظام میں بڑے شگاف نمودار ہوئے ہیں۔ یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس حملہ آور سکیورٹی حصار توڑنے میں کیسے کامیاب ہو رہے ہیں؟ ٹرمپ پر پہلے بھی دو حملے ہو چکے ہیں، اس کے باوجود تیسری کوشش کو پہلے سے کیوں نہیں روکا جا سکا؟
حساس معلومات کا افشا اور جانبدارانہ رپورٹس
سکیورٹی لیپس کے حوالے سے جولائی 2025 کا وہ واقعہ بھی زیرِ بحث ہے جب ‘سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی کے بھارتی نژاد عہدیدار مدھو گوٹومکالا نے حساس فائلیں عوامی طور پر چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کر دی تھیں۔ مزید برآں، تلسی گبارڈ کی حالیہ رپورٹس میں سکیورٹی ناکامیوں کا ملبہ صرف چین اور ایران جیسے ممالک پر ڈالا جا رہا ہے، جن کے بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات ہیں۔ ناقدین اسے محض اتفاق نہیں سمجھتے بلکہ اسے بھارت اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان کا کلیدی کردار اور بھارت کی مبینہ ناگواری
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ جلد پاکستان کے دورے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ ثالثی میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے مثبت کردار کی کھل کر تعریف کی ہے۔ دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت اس سفارتی قربت سے ناخوش ہے، اور یہی وجہ ہے کہ امریکی سکیورٹی اداروں میں موجود مخصوص لابی کے تحت ٹرمپ کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
غیر ملکی ایجنڈے کا شبہ
سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث گرم ہے کہ تلسی گبارڈ اور کاش پٹیل امریکی صدر کے بجائے مودی اور نیتن یاہو کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی ماضی میں بھارت کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں، جس کے باعث یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ بھارتی نژاد ہینڈلرز کے دور میں امریکی سکیورٹی، جو کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھی، اب کمزور ہو چکی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صدر کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے ان عہدیداروں کا فوری استعفیٰ لیا جائے۔