کابل: طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت طالبان کے خلاف کوئی بھی اپوزیشن تحریک وجود نہیں رکھتی اور پورے ملک میں کسی ایک مقام پر بھی ان کے حفاظتی ناکوں یا کمانڈ ڈھانچے پر کوئی حملہ نہیں ہو رہا۔ ہفتے کے روز طالبان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ افغانستان کا کوئی ایک صوبہ یا ضلع ایسا نہیں ہے جہاں مخالفین کا کوئی مرکز موجود ہو، اور طالبان کی حکومت کو کسی قسم کی اندرونی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔
طالبان کے سینیئر عہدیدار کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ‘فریڈم فرنٹ’ اور ‘نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان’ جیسی تنظیمیں وقتاً فوقتاً مختلف صوبوں میں طالبان پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہتی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو ابھی تک داخلی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اور دیگر سخت پالیسیوں کی وجہ سے موجودہ نظام سے نالاں ہے۔
دوسری جانب امیر خان متقی نے کابل میں منعقدہ بین الاقوامی روایتی کشتی کے میلے میں شریک ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران افغانستان کے علاقائی ممالک کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی تعلقات پر زور دیا۔ اس تین روزہ میلے میں ایران، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغیزستان اور ترکیہ سے ساٹھ کے قریب کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ متقی کا کہنا تھا کہ امارتِ اسلامیہ کے قیام کے بعد افغانستان میں روایتی کھیلوں کو فروغ ملا ہے اور اس طرح کے مقابلے خطے کے ممالک کے درمیان دوستی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی دوران طالبان کے وزیرِ خارجہ نے اپنے سفارت کاروں اور میڈیا کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ وزارتِ خارجہ کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں چینی شہر ارمچی میں طالبان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے سوشل میڈیا، میڈیا اور سفارتی حلقوں کو محتاط اور تعمیری انداز اپنانا چاہیے تاکہ سفارتی کوششوں کو ثمر آور بنایا جا سکے۔
دیکھئیے:المرصاد کا خط اور مولانا ادریس ترنگزئی کے خلاف مہم: بیانیاتی تصادم، سفارتی خطرات اور علاقائی پہلو