واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے (کرسپونڈنٹس ڈنر) کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک فائرنگ کی آواز گونجی، جس کے بعد سیکرٹ سروس کے اہلکار فوری طور پر صدر ٹرمپ کو حصار میں لے کر ہال سے باہر لے گئے۔ اس دوران 2,600 سے زائد شرکاء میں ہلچل مچ گئی اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے میزوں کے نیچے چھپ گئے۔
صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا بیان میں سیکرٹ سروس کی بہادری کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور نے محض 15 گز کی دوری سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حملہ آور کے پاس متعدد ہتھیار تھے اور اس نے مرکزی دروازے کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر ایک اہلکار کو گولی ماری، جو خوش قسمتی سے بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گرفتار حملہ آور کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے، تاہم ان کے نزدیک اس حملے کا ایران کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں۔
صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے واشنگٹن میں پیش آنے والے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور صدر ٹرمپ کی خیریت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے تشویشناک واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتا ہوں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء خیریت سے ہیں۔
Deeply shocked by the disturbing shooting incident at the White House Correspondents’ Association Dinner in Washington, D.C., a short while ago.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 26, 2026
Relieved to know that President Trump, the First Lady, and other attendees are safe.
My thoughts and prayers are with him, and I wish…
واقعے سے چند لمحے قبل صدر ٹرمپ اور ترجمان کیرولائن لیویٹ کو ایک پرچی دکھائی گئی تھی، جس کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکار حرکت میں آئے۔ صدر ٹرمپ نے مشتبہ حملہ آور کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی شام تھی لیکن وہ اس طرح کے واقعات سے ڈر کر اپنی تقاریب منسوخ نہیں کریں گے۔ انہوں نے ‘شو جاری رکھنے’ کی سفارش کی ہے، تاہم اب مزید تمام اقدامات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات کے مطابق کیے جائیں گے۔
دیکھئیے:پاکستان کا نیا اثر و رسوخ اسے ایک نازک جغرافیائی سیاسی جال کے مرکز میں لے آیا ہے