واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے موقع پر فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت 31 سالہ کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو کیلیفورنیا کا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئر ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، اس پرتشدد کارروائی کے پیچھے گہرے سیاسی محرکات اور انتہاپسندانہ نظریات کارفرما ہیں، جس کے لیے ملزم نے اپنی بھارتی نژاد اہلیہ پریانکا راؤ کے امیگریشن کیس کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
تحقیقات میں یہ تشویشناک پہلو سامنے آیا ہے کہ ملزم کی اہلیہ پریانکا راؤ کے مبینہ طور پر بھارتی انتہاپسند تنظیم ‘راشٹریہ سویم سیوک سنگھ آر ایس ایس کے ساتھ نظریاتی روابط ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی سنگین مثال ہے کہ کس طرح درآمد شدہ انتہاپسندانہ نظریات مقامی امریکی شہریوں کو متاثر کر رہے ہیں اور انہیں پرتشدد کارروائیوں پر اکسا رہے ہیں۔ قانونی جانچ پڑتال کے دوران شہریت کے عمل میں تاخیر پر قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے ملزم کا انتہاپسندی کی طرف راغب ہونا اسی نظریاتی اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ اس بڑھتے ہوئے عالمی خوف کو تقویت دے رہا ہے کہ انتہاپسندانہ بیانیے سرحدیں عبور کر کے محفوظ ترین ماحول میں بھی لوگوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ سابقہ متنازع بیانات بھی دوبارہ زیرِ بحث آ رہے ہیں جن میں انہوں نے بھارت کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ عالمی سطح پر اس واقعے کو ہجرت، حکمرانی اور غیر ملکی انتہاپسندانہ نظریات کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو اب امریکی معاشرے کے اندرونی ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے۔
دیکھئیے:بھارتی نژاد سکیورٹی حکام ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خطرہ بن گئے، فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ